Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کیلئے 20 کروڑ روپئے جاری

شادی مبارک اسکیم کیلئے 20 کروڑ روپئے جاری

ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اقلیتی بہبود عہدیداروں کیساتھ جائزہ اجلاس، فلاحی اسکیمات پر عمل آوری یقینی بنانے کی ہدایت

ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اقلیتی بہبود عہدیداروں کیساتھ جائزہ اجلاس، فلاحی اسکیمات پر عمل آوری یقینی بنانے کی ہدایت
حیدرآباد 23 ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت نے شادی مبارک اسکیم کیلئے 20 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جبکہ جاریہ سال بجٹ میں اس اسکیم کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے۔ محکمہ فینانس نے آج شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں 20 کروڑ کی منظوری کے احکامات جاری کئے ۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ انہوں نے شادی مبارک اور دیگر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا ۔ انہو ںنے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اسکیمات پر تیزی سے عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے شادی مبارک اسکیم کے سلسلہ میں عہدیداروں کو پیش آرہی دشواریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ۔ حکومت نے 20 ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے فی کس 51 ہزار روپئے کی امداد کا فیصلہ کیا ہے لیکن اسکیم پر عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب محکمہ اقلیتی بہبود کو دشواریوں کا سامنا تھا جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے آج محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی پر زور دیا ۔ ان کی نمائندگی کے بعد محکمہ فینانس نے 20 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جبکہ مزید 80 کروڑ کی اجرائی باقی ہے ۔ اسکیم پر عمل آوری کی رفتار میں تیزی پیدا کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کے مشورہ پر عہدیداروں نے بتایا کہ بجٹ کی عدم اجرائی اہم رکاوٹ ہے اور شادی مبارک کی درخواستوں کی جانچ میں متعلقہ منڈل ریونیو آفیسرس تاخیر کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور نے ڈپٹی چیف منسٹر کو اسکیمات پر عمل آوری اور بجٹ کی عدم اجرائی کی تفصیلات پیش کیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شادی مبارک کے تحت ساری ریاست میں 931 درخواستیں وصول ہوئی ہیں جن میں 130 درخواستوں کو منظوری دی گئی اور رقم جاری کی گئی ۔ 731 درخواستیں ایم آر اوز کے پاس جانچ کیلئے زیر التواء ہیں۔ عہدیداروں نے ایم آر اوز کی جانب سے جانچ میں تاخیر اور تاریخ پیدائش سے متعلق صداقت نامے کی اجرائی میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت کی ۔ دیہی علاقوں کے غیر تعلیم یافتہ خاندانوں کو اس سرٹیفکیٹ کیلئے ایم آر او آفس کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ بجٹ میں شادی مبارک کیلئے مختص رقم کی عدم اجرائی کے سبب اجتماعی شادیوں کی اسکیم کیلئے موجود بجٹ سے رقم جاری کی جارہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اس اسکیم پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے اور عہدیداروں کو جانچ کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ انہو ںنے کہا کہ اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار کارڈ لازمی نہیں ہے اور عہدیداروں کو اس کے بغیر درخواستیں قبول کرنی چاہئے ۔ انہوں نے دیگر اقلیتی اداروں کیلئے بجٹ کی جلد اجرائی کو یقینی بنانے کا تیقن دیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں نے شادی کی انجام دہی سے قبل امدادی رقم کی اجرائی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ملتی کہ امداد حاصل کرنے کے بعد جوڑے نے شادی کی ہے ۔ واضح رہے کہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے تین ماہ باقی ہے اور حکومت اقلیتی بہبود کا 1030 کروڑ کا بجٹ مکمل خرچ کرنا چاہتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT