Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک اسکیم کی ذمہ داری ایم آر اوز کو تفویض

شادی مبارک اسکیم کی ذمہ داری ایم آر اوز کو تفویض

عنقریب احکامات ، بے قاعدگیوں کی روک تھام اور زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کی مساعی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ نومبر (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے شادی مبارک اسکیم میں مبینہ بے قاعدگیوں کی روک تھام اور زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنانے کیلئے اسکیم پر عمل آوری کی ذمہ داری متعلقہ منڈل ریونیو آفیسرس (ایم آر اوز) کو تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس سلسلہ میں جلد احکامات جاری کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں کئی بے قاعدگیوں کی شکایت کے بعد ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں نے چیف منسٹر کی ہدایت پر پولیس عہدیداروں کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے جو نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں اسکیم کے استفادہ کنندگان اور تازہ درخواست امیدواروں کے بارے میں جانچ کر رہی ہے۔ خصوصی ٹیم نے حیدرآباد میں تقریباً 66 لاکھ روپئے کی زائد ادائیگی کا اسکام بے نقاب کیا اور رقومات کی وصولی کا کام جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جن اکاؤنٹس میں زائد رقم جمع کردی گئی ، پولیس نے ان اکاؤنٹس کو منجمد کردیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اگرچہ کس غلطی کو محکمہ عہدیداروں کی غلطی ماننے سے انکار کر رہے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ پے اینڈ اکاؤنٹ کے ملازمین اور متعلقہ ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو کی ٹیم اس معاملہ کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے تاکہ درمیانی افراد اور قصوروار ملازمین کا پتہ چلایا جاسکے۔ اسکیم پر عمل آوری میں بے قاعدگیوں کی اطلاع پر چیف منسٹر نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا  جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر نے 10 فیصد درخواست گزاروں اور استفادہ کنندگان کی جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 7 اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس موجود نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ شہر اور اضلاع میں اسٹاف کی کمی کے سبب زیر التواء درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے اسکیم کو ہر ضلع میں ایم آر اوز کے حوالے کرنے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جاسکے۔ حال ہی میں حیدرآباد میں زیر التواء درخواستوں کی جانچ کیلئے حج کمیٹی کے 9 ملازمین کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔ اب انہیں ریاستی حکومت کی پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی درخواستوں کی یکسوئی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT