شادی مبارک اسکیم کے قواعد میں ترمیم کیلئے حکومت تلنگانہ سے سفارش

لفظ اقلیت کے استعمال سے دیگر طبقات کی بھی درخواستیں، محکمہ اقلیتی بہبود کا اسکیم کو مددگار بنانے کی مساعی

لفظ اقلیت کے استعمال سے دیگر طبقات کی بھی درخواستیں، محکمہ اقلیتی بہبود کا اسکیم کو مددگار بنانے کی مساعی
حیدرآباد۔/11اکٹوبر، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کے قواعد میں ترمیم کرے تاکہ غریب مسلم اقلیت کے خاندانوں کو اس اسکیم سے زیادہ فائدہ حاصل ہو اور اسکیم پر شفافیت کے ساتھ عمل آوری کی جاسکے۔ حکومت نے 2اکٹوبر سے شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں 25ستمبر کو احکامات جاری کئے تھے جس کے تحت قواعد کی طویل فہرست بھی جاری کی گئی۔ حکومت نے اسکیم کیلئے اقلیتی خاندانوں کی غریب لڑکیوں کو مستحق قرار دیا جو کہ تلنگانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ لفظ اقلیت کے استعمال کے سبب مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، سکھ، بدھسٹ اور جین مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی استفادہ کے اہل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2اکٹوبر کے بعد ان طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے رجوع ہوئے۔ حکومت آئندہ چار ماہ میں تقریباً 40ہزار شادیوں پر امداد کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم اس کے لئے درکار بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ شرائط اس قدر سخت ہیں کہ جن کی تکمیل کسی غریب خاندان کیلئے ممکن نہیں۔ احکامات کے مطابق شادی کے انعقاد کے بعد 51ہزار روپئے کی امداد دی جائے گی جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کا ماننا ہے کہ یہ امداد شادی سے قبل یعنی شادی طئے ہونے پر دی جانی چاہیئے تاکہ غریب خاندانوں کا فائدہ ہوسکے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل کم از کم امداد کی منظوری سے متعلق مکتوب حوالہ کرنے کی صورت میں کوئی بھی نوجوان 51ہزار روپئے کی امید سے شادی کیلئے آمادہ ہوسکتا ہے اور وہ اس رقم سے کسی چھوٹے کاروبار کا آغاز کرسکتا ہے۔دیگر شرائط میں بھی نرمی پیدا کرنے کیلئے حکومت سے سفارش کی گئی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسکیم تمام اقلیتوں کیلئے برقرار رکھتے ہوئے مسلم اقلیت کی حصہ داری طئے کی جانی چاہیئے تاکہ زائد غریب خاندانوں کو فائدہ ہو۔ واضح رہے کہ 2008ء میں جس وقت وقف بورڈ کے ذریعہ اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا رہا اس میں صرف مسلم خاندانوں کی لڑکیاں شامل تھیں بعد میں 2012ء میں حکومت نے اسکیم میں لفظ اقلیت کو شامل کرتے ہوئے دیگر اقلیتوں کو بھی اسکیم سے استفادہ کا موقع فراہم کیا۔ چندر شیکھر راؤ نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے اسکیم کا اعلان کیا لیکن اسکیم میں لفظ اقلیت کے استعمال سے دیگر اقلیتیں بھی استفادہ کی اہل ہوچکی ہیں۔2اکٹوبر سے عمل آوری کے آغاز کے باوجود سخت قواعد کے باعث محکمہ عمل آوری سے قاصر ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ حکومت جلد ہی قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے احکامات جاری کرے گی۔ تلنگانہ حکومت نے جون تا ستمبر چار ماہ کے عبوری بجٹ میں اجتماعی شادیوں کی اسکیم کیلئے 88لاکھ 85ہزار روپئے مختص کئے تھے جن میں 65لاکھ 14ہزار پہلے مرحلہ میںجاری کئے گئے جبکہ دوسرے مرحلہ میں 26ستمبر کو21لاکھ 71ہزار جاری کئے گئے تاہم یہ ابھی تک اقلیتی بہبود کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچے۔ حکومت کا یہ بجٹ ناکافی ہے اور اس سے 40ہزار شادیوں کیلئے امداد فراہم کرنا ممکن نہیں۔

TOPPOPULARRECENT