شادی مبارک اسکیم کے قواعد میں نرمی پیدا کرنے کا فیصلہ

حج کمیٹی بجٹ اجرائی اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے تقرر پر بھی بہت جلد فیصلہ ، الحاج محمد محمود علی

حج کمیٹی بجٹ اجرائی اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے تقرر پر بھی بہت جلد فیصلہ ، الحاج محمد محمود علی
حیدرآباد۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد سے متعلق ’’ شادی مبارک‘‘ اسکیم کے قواعد میں نرمی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ حج کمیٹی کے بجٹ کی اجرائی اور اقلیتی بہبود کے سکریٹری کے تقرر کے سلسلہ میں بھی جلد فیصلہ کا امکان ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے آج اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں شادی مبارک اسکیم اور دیگر اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود و اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب محمد جلال الدین اکبر، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن پروفیسر ایس اے شکور کے علاوہ دیگر عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے شادی مبارک اسکیم کے قواعد سے متعلق عوامی نمائندگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ قواعد میں نرمی پیدا کرتے ہوئے اسکیم پر موثر عمل آوری کی راہ ہموار کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اورحکومت آئندہ چار ماہ میں تقریباً 40 ہزار غریب لڑکیوں کی شادی پر امداد دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ غریب خاندانوں کو اسکیم سے استفادہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے قواعد میں ترمیم ناگزیر ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ ضروری ترمیمات سے متعلق فائل چیف منسٹر کو روانہ کریں تاکہ ان کی منظوری حاصل کی جاسکے۔ محمود علی نے کہا کہ وہ قواعد میں ترمیم کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے ایس ایس سی ، ہال ٹکٹ یا سرٹیفکٹ کی پیشکشی کے لزوم کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ غیر تعلیم یافتہ غریب خاندان بھی اسکیم سے استفادہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ او سی زمرہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کاسٹ سرٹیفکٹ کی اجرائی کو بھی آسان بنایا جائے گا ۔ مسجد کمیٹی یا پھر عیسائیوں کیلئے چرچ سے سرٹیفکٹ کی پیشکشی پر اہل قرار دینے کی تجویز ہے ۔ اجلاس میں اسکیم کے قواعد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ وہ اس اسکیم کیلئے درکار بجٹ کی اجرائی کیلئے مساعی کریں گے۔ درخواست گزاروں کو آدھار کارڈ اور دو لاکھ سے کم آمدنی کا سرٹیفکٹ پیش کرنا لازم ہوگا ۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ اقلیتوں کی آبادی کے اعتبار سے بجٹ خرچ کیا جائے گا اور مسلم اقلیت کیلئے مجموعی بجٹ کا 80 فیصد خرچ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حج کمیٹی کیلئے دو کروڑ روپئے بجٹ کی یکمشت اجرائی کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کا تیقن دیا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزیر فینانس سے بھی ملاقات کریں گے۔ اقلیتی بہبود کیلئے سکریٹری کی عدم موجودگی کے سبب اداروں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ اس تعطل کو دور کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر نے متعلقہ سکریٹری سے بات چیت کی اور انہیں مشورہ دیا کہ کل تک اقلیتی بہبود کے سکریٹری کا تقرر کردیا جائے۔ جناب احمد ندیم کی طویل رخصت سے واپسی کے بعد حکومت نے انہیں اقلیتی بہبود کی زائد ذمہ داری نہیں دی جبکہ ان کے غیاب میں انچارج سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ٹی رادھا نے اقلیتی بہبود سے متعلق فائلوں کو یہ کہتے ہوئے واپس کردیا کہ احمد ندیم کی رخصت کی مدت تک انہیں زائد ذمہ داری دی گئی تھی۔ اجلاس میں جناب محمود علی نے عہدیداروں کو دورہ سعودی عرب کی تفصیلات سے واقف کرایا۔

TOPPOPULARRECENT