Thursday , December 13 2018

شادی مبارک اسکیم کے قواعد و ترمیم

نئے جی او کی اجرائی ‘ 20ہزار مسلم لڑکیوں کی شادیوں کا نشانہ مقرر

نئے جی او کی اجرائی ‘ 20ہزار مسلم لڑکیوں کی شادیوں کا نشانہ مقرر
حیدرآباد۔27۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد کی فراہمی سے متعلق شادی مبارک اسکیم کے قواعد میں ترمیم کی ہے۔ اس سلسلہ میں آج سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے جی او ایم ایس 6 جاری کیا۔ اسکیم کے قواعد میں کی گئی ترمیم کے مطابق اب غریب مستحق لڑکیوں کو شادی سے قبل بھی امداد فراہم کی جائے گی جبکہ سابق میں طئے شدہ قواعد کے مطابق شادی کے اہتمام کے بعد امداد فراہم کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ درخواستیں می سیوا سنٹر پر آن لائین داخل کرنے کے علاوہ کسی بھی ضلع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر اور اگزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفاتر میں راست طور پر داخل کی جاسکتی ہیں۔ حکومت نے باقی تمام شرائط کو جوں کا توں برقرار رکھا ہے۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ شادی سے ایک ماہ قبل درخواست داخل کرنے کی صورت میں امداد بھی شادی قبل جاری کی جائے گی ۔ اس اسکیم کے تحت 51,000 روپئے کی مالی امداد فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ 2 اکتوبر سے اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ تاہم بعض گوشوں سے شرائط میں ترمیم کیلئے نمائندگی کے بعد حکومت نے شادی سے قبل رقم جاری کرنے سے اتفاق کرلیا۔ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے شروع کی گئی کلیان لکشمی اسکیم کیلئے بھی اسی طرح کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ اسکیم سے استفادہ کیلئے شرائط میں لڑکی کا اقلیتی طبقہ سے تعلق ہونا، غیر شادی شدہ اور شادی کے وقت 18 سال کی عمر لازمی ہے۔ صرف تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو یہ امداد دی جائے گی جن کے والدین کی مشترکہ آمدنی سالانہ دو لاکھ سے کم ہونی چاہئے ۔ 2 اکتوبر یا اس کے بعد انجام پانے والی شادیوں کیلئے یہ اسکیم قابل عمل رہے گی۔ درخواست گزاروں کو پیدائشی صداقتنامہ، کمیونٹی سرٹیفکٹ ، انکم سرٹیفکٹ ، دلہا ، دلہن کا آدھار کارڈ ، لڑکی کی بینک پاس بک کی کاپی اور قاضی یا کسی ذمہ دار ادارہ کی جانب سے شادی کے بارے میں جاری کردہ صداقتنامہ داخل کرنا ہوگا۔ گرام پنچایت ، چرچ، مسجد یا کسی اور ادارہ کے صداقت نامہ کو قبول کیا جائے گا۔ حکومت نے ایس ایس سی سرٹیفکٹ داخل کرنے کی شرط کو ختم کردیا ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت کوئی بھی لڑکی زندگی میں صرف ایک بار مالی امداد حاصل کرسکتی ہے۔ اگزیکیٹیو ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن یا ڈسٹرکٹ میناریٹی فینانس کارپوریشن درخواستوں اور اسنادات کی جانچ کے بعد اسے متعلقہ حکام سے رجوع کریں گے ۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو اس اسکیم کے سلسلہ میں مناسب تشہیر کی ہدایت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے ابتداء میں 40,000 شادیوں کیلئے امداد کی فراہمی کا نشانہ مقرر کیا تھا۔ تاہم مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف 4 ماہ باقی رہنے کے سبب کم از کم 20,000 شادیوں کیلئے امداد کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس قدر بڑی تعداد میں شادیوں کیلئے درکار بجٹ ابھی جاری نہیں کیا گیا۔ حکومت نے اس اسکیم کیلئے بجٹ میں ایک کروڑ 30 لاکھ روپئے مختص کئے تھے، جس کے تحت پہلے مرحلہ میں 86 لاکھ 85 ہزار روپئے جاری کئے گئے جبکہ 25 اکتوبر کو مزید 43 لاکھ 42 ہزار روپئے جاری کئے گئے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت اس اسکیم پر عمل آوری ہوگی اور حکام نے مزید بجٹ کی اجرائی کیلئے حکومت سے نمائندگی کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT