Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی مبارک و کلیان لکشمی کے چیکس بنک میں قابل قبول نہیں!

شادی مبارک و کلیان لکشمی کے چیکس بنک میں قابل قبول نہیں!

وزیر ٹرانسپورٹ کے ہاتھوں چیکس کی تقسیم ہوئی ۔ بعض سیاسی قائدین حکومت کی مداح سرائی میں مصروف
حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی کی جانب سے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم کے تحت تقسیم کئے گئے غریب 92 لڑکیوں میں 58 لاکھ روپئے کے چیکس کو بینکوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ جس سے غریب لڑکیوں کے والدین میں مایوسی پھیل گئی ۔ حکومت تلنگانہ نے غریب لڑکیوں کی شادی میں مالی تعاون کرنے کی غرض سے مسلمانوں کے لیے شادی مبارک اور اکثریتی طبقہ کے لیے کلیان لکشمی اسکیم کو متعارف کرایا ہے اور اس پر کامیابی سے عمل آوری بھی ہورہی ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے اپنے اسمبلی حلقہ تانڈور کے مختلف منڈلس سے تعلق رکھنے والی غریب لڑکیوں میں چیکس تقسیم کرنے کے لیے 5 نومبر کو ایک تقریب کا اہتمام کیا اور 92 لڑکیوں میں 58 لاکھ روپئے کے چیکس تقسیم کئے ۔ چند لڑکیوں کو متعلقہ منڈلس کے تحصیلداروں نے بھی چیکس تقسیم کئے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ اور عہدیداروں کی جانب سے تقسیم کئے گئے چیکس لے کر غریب لڑکیاں جب اپنے بینک کھاتوں میں جمع کرنے پہونچے تو انہیں بینک کے ملازمین نے چیکس کو ناقابل استعمال قرار دیتے ہوئے بہت بڑا جھٹکہ دے دیا ۔ جب یہ لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ تانڈور سب کلکٹر آفس پہونچی تو انہیں ایک ملازم کی غلطی کا جواب دیا گیا ۔ ڈی اے اور اشوک کمار سب کلکٹر آفس تانڈور یس جب اس سلسلے میں تبادلہ خیال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ چیکس حاصل کرنے والوں کی جانب سے سب کلکٹر آفس پہونچنے کی انہیں اطلاع نہیں ہے ۔ وہ اس سلسلے میں بینک عہدیداروں سے تبادلہ خیال کریں گے اور کہاں غلطی ہوئی اس کا جائزہ لیتے ہوئے 92 لڑکیوں سے مکمل انصاف کریں گے ۔ بالی ووڈ میں انتہائی مقبول ہونے والی فلم 3 ایڈئیٹس میں عامر خاں اور ان کے دوستوں کے خالی لفافے کا منظر تو فلم بینوں کو یاد ہوگا کہ کس طرح عامر خاں اور ان کے دوست دعوت میں کھانے کے لیے خالی لفافے کا استعمال کرتے ہیں ۔ شاید حکومت تلنگانہ نے بھی ووٹ کے لیے ناقابل قبول استعمال شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم کے چیکس جاری کرنے لگی ہے ۔ حکومت نے اس اسکیم کے تحت ابتداء میں 51 ہزار روپئے بطور تحفہ غریب لڑکیوں کو جاری کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اسمبلی حلقہ تانڈور میں بنکوں نے چیکس کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے غریب کی غربت کا امتحان لیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان چیکس میں کچھ غلطیاں اور نقائص پائی گئی جس کا خمیازہ غریب والدین کو بھگتنا پڑا ہے ۔

 

لیکن اپنے آپ کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا چمپئن قرار دیتے ہویء حکومت اور چیف منسٹر کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کردینے والوں کو غریب لڑکیوں کے ماں باپ کی بے بسی ، مجبوری دیکھائی نہیں دیتی ۔ کامیاب سیاستداں بننے اور اپنے جائز و ناجائز مفادات کی تکمیل کے لیے حکمران وقت کی جھوٹی ستائش کی اور چاپلوسی کا فن جس کو آتا ہے ۔ اس کی سیاسی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ عوام میں اس کا اعتماد باقی نہیں رہتا ۔ آج کل ہمارے ملک اور ریاست میں ایسے ہی عناصر کا بول بالا لگتا ہے ۔ سیاستدانوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہوگیا ہے کہ جب تک حکمران وقت اور حکومتوں کی جس قدر مداح سرائی کریں گے اس کی قدر اور سیاسی مفادات کی تکمیل ہوتی رہے گی اور سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالے جاسکتے ہیں ۔ اب سیاست لو اور دو کے اطراف گھوم رہی ہے ۔ لیکن حکومتوں سے کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے اپنے مفادات کی چکر میں مظلوم اقلیت کی تائید و حمایت اور ہمدردی سے محروم ہورہے ہیں ۔ عوام کو ان کی خود غرضی موقع پرستی اور اقتدار کی دہلیز پر ماتھا ٹیکنے کا اچھی طرح علم ہوگیا ہے ۔ اب چاہے وہ قیمتی گاڑیوں میں گھومیں یا پھر پیدل پدیاترا کریں ۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ اچھے کام کی تعریف کی جانی چاہئے ۔ لیکن تعریف حد سے زیادہ نہ کریں جو چاپلوسی نظر آئے ۔ اسمبلی اجلاس کے دوران جو کچھ بھی ہورہا ہے ۔ وہ کیوں اور کس لیے کیسے ہورہا ہے عوام اچھی طرح جان چکی ہے ۔ یہ قیاس آرائیاں بھی لگائی جارہی ہے کہ یہ سب کچھ کوئی مجبوری تو نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کیا ہے ۔ کیا کبھی اس جانب حکومت یا چیف منسٹر کو توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کبھی باغوں کے شہر کی حیثیت سے شہرت رکھنے والا پرانا شہر کی سڑکیں تنگ و تاریک راستوں میں تبدیل ہوگئی ہیں ۔ کیا وہ حکومت کی تعریف کرنے والوں کو نظر نہیں آتی ۔ پرانے شہر میں ایسے کئی تعلیمی ادارے ہیں جو ایک ہی عمارت میں کام کررہے ہیں ۔ غریب بچے ان اسکولس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر حکومت کو خوش کرنے کے منتظر رہنے والوں کو ان اسکولس کی حالت زار کا اندازہ نہیں ہے ۔ آج عوام کو حکمرانوں کی تعریف کرنے والے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی کے لیے کام کرنے والوں کی ضرورت ہے ۔ اقلیتوں کے جائز حقوق کی ترجمانی کرنے والوں کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT