Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / شادی کیلئے ہر لڑکی کو 51 ہزار روپئے کی امداد

شادی کیلئے ہر لڑکی کو 51 ہزار روپئے کی امداد

غریب و متوسط والدین کو راحت ، اسکیم پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت

غریب و متوسط والدین کو راحت ، اسکیم پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 8 اکٹوبر ۔ (ریاض احمد) مرکزی و ریاستی حکومتیں مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے بے شمار فلاحی اسکیمات شروع کرتی ہیں اور اس کیلئے ہزاروں کروڑ روپئے جاری کئے جاتے ہیں لیکن ان اسکیمات سے غریب مسلمان مؤثرانداز میں استفادہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کی معاشی پسماندگی دور نہیں ہوتی ۔ سرکاری اسکیمات سے استفادہ کرنے میں ناکام رہنے والوں میں صرف ناخواندہ مسلمان ہی شامل نہیں ہیں بلکہ پڑھے لکھے مسلمان بھی ہیں۔ اس کیلئے جہاں خود مسلمان ذمہ دار ہیں وہیں حکومتی ادارے، حکام، سیاسی جماعتیں، غیر سرکاری تنظیمیں اور سیاسی و مذہبی قائدین بھی اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی نہیں کرسکتے۔ اصل میں مسلمانوں کو اچھی طرح فلاحی اسکیمات سے واقف نہیں کرایا جاتا۔ ان میں سرکاری اسکیمات کے بارے میں شعور بیدار نہیں کیا جاتا۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے انتخابی مہم کے دوران واضح کردیا تھا کہ وہ نئی ریاست تلنگانہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنائیں گے۔ اقلیتوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ ان کے بجٹ میں کافی اضافہ کو یقینی بنائیں گے۔ مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات دیئے جائیں گے۔ چنانچہ کے چندرشیکھر راؤ نے اپنے وعدوں کی تکمیل کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اقلیتی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ کرتے ہوئے اسے 1030 کروڑ روپئے کردیا۔ اس طرح ریاست کے 10 اضلاع کے مسلمان اس بجٹ سے اپنی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ کے سی آر نے دلت اور قبائیلی لڑکیوں کی شادیوں کے موقع پر مالی امداد فراہم کرنے کی خاطر ’’کلیانی لکشمی‘‘ اسکیم شروع کی ۔اس معاملہ میں حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی ہمیشہ ستائش کرنے والے کے چندرشیکھر راؤ نے مسلم لڑکیوں کیلئے بھی شادی مبارک اسکیم کا اعلان کردیا جس کے تحت 18 سال سے زائد عمر کی مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر 51 ہزار روپئے دیئے جائیں گے۔ ہندوستان کی تاریخ میں مسلم لڑکیوں کیلئے شروع کردہ یہ اپنی طرز کی منفرد اسکیم ہے۔ ایک طرح سے چیف منسٹر نے مسلم لڑکیوں کیلئے اس اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے غریب اور متوسط مسلم ماں باپ کے دل جیت لئے ہیں ۔ مسلم معاشرہ کیلئے لڑکیوں کی شادیوں کا مسئلہ بہت سنگین رخ اختیار کر گیا۔ گھوڑے جوڑے کی رقم، جہیز کی مانگ اور غیر شرعی رسم و رواج نے ہمارے معاشرہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں شادی مبارک اسکیم کے آغاز سے نہ صرف غریب والدین بلکہ متوسط خاندانوں سے تعلق رکھنے والے والدین کو بھی راحت کی سانس لینے کا موقع ملے گا کیونکہ اکثر شادیوں میں لڑکیوں کے ماں باپ کیلئے دوسروں سے قرض لینا ضروری ہوجاتا ہے اور اس میں سے بیشتر والدین اپنی لڑکی کو خوشیاں دینے کی خاطر سودی قرض حاصل کرتے ہوئے سودخوروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں لیکن اس اسکیم سے مسلم ماں باپ کو کسی قدر راحت ضرور ہوگی۔ اس اسکیم پر دو اکٹوبر سے عمل آوری شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے زیرانتظام چلائی جانے والی اس اسکیم کے تحت اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے والدین کو شادی کے موقع پر 51 ہزار دیئے جائیں گے۔ اس کیلئے جو پیمانے یا کسوٹی مقرر کی گئی ہے ان میں لڑکی کا تلنگانہ کی شہری ہونا، 18 سال سے زائد عمر، 2 اکٹوبر 2014ء یا اس کے بعد شادی کے علاوہ لڑکی کی پہلی شادی شامل ہیں۔ یعنی حکومت لڑکیوں کو ان کی زندگی میں ایک مرتبہ ہی شادی مبارک اسکیم کے تحت 51 ہزار روپئے دے گی جہاں تک لڑکیوں کے والدین کی آمدنی کا سوال ہے۔ یہ سالانہ دو لاکھ سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ درخواستیں کسی بھی می سیوا سنرٹ کے ذریعہ آن لائن داخل کی جاسکتی ہیں۔ درخواست کے ساتھ لڑکی کا پیدائشی صداقت نامہ، کمیونٹی سرٹیفکیٹ، انکم سرٹیفکیٹ (یہ سرٹیفکیٹ 6 ماہ سے زیادہ پرانا یا قدیم نہیں ہونا چاہئے)، دولہا دولہن کے آدھار کارڈ کی نقول، دولہن کی بینک پاس بک (سیونگ اکاونٹ) کے پہلا صفحہ ہی پر لڑکی یا دولہن کی فوٹو چسپاں اور اکاونٹ کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ رقعہ (اگر دستیاب ہو) شادی کی تصویر، گرام پنچایت، چرچ، مسجد، یا شادیاں انجام دینے والے دیگر اتھاریٹی کی جانب سے جاری کردہ مکتوب کو اسکیان کرتے ہوئے اپ لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر ان درخواستوں پر کارروائی کرے گا اور اس کی توثیق کے بعد ہی لڑکی کے بینک اکاونٹ میں 51 ہزار روپئے جمع کرائے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ سیاسی جماعتوں، دینی تنظیموں، آئمہ و خطبہ اور ہمدردان ملت کے ساتھ ساتھ سماجی جہدکاروں کو چاہئے کہ وہ شادی مبارک اسکیم کے بارے میں مسلمانوں میں شعور بیدار کریں۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT