Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / شادی کیلئے 2.5 لاکھ روپئے نکالنا انتہائی مشکل

شادی کیلئے 2.5 لاکھ روپئے نکالنا انتہائی مشکل

تمام تفصیلات پیش کرنا ضروری، آر بی آئی کی سخت شرائط
ممبئی ۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ریزرو بینک آف انڈیا نے شادی کے لئے بینک اکاؤنٹس سے 2.5 لاکھ روپئے نقد رقم کی منہائی کے سلسلے میں انتہائی سخت شرائط مسلط کئے ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ 8 نومبر کو بڑی کرنسی کا چلن بند کرنے کے اعلان سے پہلے اکاؤنٹ میں جو رقم موجود تھی اُسی میں سے شادی کے لئے رقم نکالی جاسکتی ہے ۔ ریزرو بینک نے واضح کیا ہے کہ نکالی گئی نقد رقم صرف ایسے افراد کو ادائیگی کے لئے استعمال کی جائے جن کے بینک اکاؤنٹس نہیں ہے ۔ نقد رقم کی منہائی کیلئے درخواست کے ساتھ اُن تمام افراد کے نام بھی دینے ہوں گے جنھیں یہ رقم ادا کرنے کا منصوبہ ہے ۔ درخواست گذار کو دلہن اور دلہا کے نام ، اُن کے شناختی ثبوت ، دونوں کا پتہ اور شادی کی تاریخ کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا ۔ یہ رقم صرف اُسی صورت میں منہا کی جاسکتی ہے جبکہ شادی 30 ڈسمبر 2016 یا اُس سے پہلے مقرر ہو ۔ حکومت نے کرنسی بند کرنے کے اچانک فیصلے کی وجہ سے شادی بیاہ کی تقاریب پر اثرات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا کہ اُنھیں اپنے بینک اکاؤنٹس سے 2.5 لاکھ روپئے تک نکالنے کی اجازت دی جائے ۔ ریزرو بینک نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ 8 نومبر 2016 ء سے پہلے اکاؤنٹ میں جو رقم جمع تھی اُسی میں سے شادی کیلئے رقم نکالی جاسکتی ہے ۔ رقم نکالنے کی اجازت والدین یا پھر جن کی شادی ہورہی ہے اُنھیں ہوگی (ان میں سے کوئی ایک ہی رقم نکال سکے گا ) ۔ رقم نکالنے کیلئے درخواست کے ساتھ شادی کا ثبوت بشمول دعوت نامہ ، میاریج ہال کی بُکنگ اور کیاٹررس (باورچی) کو اڈوانس دی گئی رقمی رسائد کی نقل وغیرہ منسلک کرنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن افراد کی فہرست بھی پیش کرنی ہوگی جنھیں بینک سے نکالی جانے والی رقم ادا کرنے کا منصوبہ ہے اور جن افراد کو رقم دی جارہی ہے ، اُن کا حلف نامہ بھی منسلک کرنا ہوگا کہ وہ بینک اکاؤنٹ نہیں رکھتے ۔ فہرست میں رقم کی ادائیگی کے اغراض و مقاصد کی صراحت کی جانی ضروری ہوگی ۔ ریزرو بینک نے کہا کہ بینکوں کو چاہئے کہ وہ شادی کے مصارف کے لئے غیرنقدی طریقہ کار جیسے چیکس یا ڈرافٹس ، کریڈٹ یا ڈبیٹ کارڈ ، پری پیڈ کارڈ ، موبائیل ٹرانسفر ، انٹرنیٹ بینکنگ ، نیفٹ وغیرہ کی حوصلہ افزائی کریں۔ عوام کو یہ مشورہ دیا جانا چاہئے کہ نقد رقم منہا کرنے کے بعد صرف اُنھیں مصارف میں یہ رقم استعمال کی جائے جہاں نقد ادا کرنا ناگزیر ہوگیاہو۔ بینکوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمام شواہد کا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر حکام کو پیش کیا جاسکے ۔ آر بی آئی کے مطابق اس اسکیم سے موثر استفادہ کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT