Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / شادی کے رجسٹریشن کے لزوم کا مسودہ قانون دوبارہ پیش کر نے مودی حکومت کا ارادہ

شادی کے رجسٹریشن کے لزوم کا مسودہ قانون دوبارہ پیش کر نے مودی حکومت کا ارادہ

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت شادیوں کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کیلئے مسودہ قانون از سر نو پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے آج لوک سبھا سے کہا کہ چونکہ اس مسئلہ پر سابق مسودہ قانون 15 ویں لوک سبھا کی تحلیل کے بعد ختم ہوچکا ہے اس لئے اس مسودہ قانون کو دوبارہ پیش کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ م

نئی دہلی ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت شادیوں کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کیلئے مسودہ قانون از سر نو پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے آج لوک سبھا سے کہا کہ چونکہ اس مسئلہ پر سابق مسودہ قانون 15 ویں لوک سبھا کی تحلیل کے بعد ختم ہوچکا ہے اس لئے اس مسودہ قانون کو دوبارہ پیش کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ مرکزی وزیر قانون نے ایک تحریری جواب میں کہا کہ پیدائش اور اموات (ترمیمی) قانون 2012 ء کے تحت شادیوں کے رجسٹریچن کو بھی لازمی قرار دیا جائے گا اور مذہبی عقائد کا لحاظ کئے بغیر تمام فریقین یا جوڑوں پر شادی کا رجسٹریشن لازم قرار دیا جائے گا ۔ یہ بل 7 مئی 2012 ء کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور 13 اگست 2013 ء کو ایوان بالا نے اس کی منظوری دیدی تھی۔ یہ مسودہ قانون غور اور منظوری کیلئے لوک سبھا روانہ کیا گیا تھا لیکن جاریہ سال 21 فروری کو ایوان زیریں کی تحلیل کے بعد یہ مسودہ قانون ختم ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سوائے اترپردیش اور تلنگانہ کہ ، قوانین یا ضوابط یا احکام جاری کرتے ہوئے شادیوں کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسودہ قانون کو غور اور منظوری کیلئے راجیہ سبھا میں پیش کرنے کی تیاری جاری ہے۔ سابق مرکزی وزیر قانون کپل سبل نے کہا کہ ان کی حکومت سپریم کورٹ میں اپنے سابقہ حکم 2006 ء کے خلاف نظرثانی کی درخواست پیش کرے گی۔ اس نے اس قانون کی جانچ کی خواہش کی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظوری کے بعد ایسا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ کپل سبل نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے 2006 ء میں اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں اس قانون کی منظوری کے بعد اسے جانچ کیلئے عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس ہدایت پر ہمیں خوشی ہوئی تھی۔ ہم ایک درخواست نظرثانی پیش کریں گے کہ فیصلہ کے اس حصہ کو ہذف کردیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT