Tuesday , December 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / شاراپوا ڈرگ ٹسٹ میں ناکام‘ معطلی کے بعد پابندی کا بھی خدشہ

شاراپوا ڈرگ ٹسٹ میں ناکام‘ معطلی کے بعد پابندی کا بھی خدشہ

لاس اینجلس۔8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) روس کی سابق عالمی نمبر ایک‘ دنیا کی مشہور اور امیر ترین خاتون اسپورٹس اسٹار ماریا شاراپوا نے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث آسٹریلین اوپن کے دوران ’ڈرگ ٹسٹ‘ میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن (آئی ٹی ایف) نے 5 مرتبہ گرانڈ سلام چیمپئن 28 سالہ ماریا شاراپوا کے اعتراف کے بعد انہیں 12 مارچ سے عبوری طور پر معطل کردیا۔ واضح رہے کہ ماریا شاراپوا رواں ماہ کے دوران ساتویں ایتھلیٹ ہیں جن کا، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں میں استعمال ہونے والی ممنوعہ دوا ’میلڈونیم‘ کا ٹسٹ مثبت آیا ہے۔ ڈوپ ٹسٹ مثبت آنے پر  شاراپوا کو کم از کم ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس سال کے آغاز سے ’میلڈونیم‘ کو ممنوعہ ادوایات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی شہر لاس اینجلس میں پریس کانفرنس کے دوران شاراپوا نے اس ممنوعہ دوا کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلے 10 سال سے  میلڈونیم کا استعمال کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے مداحوں سے معافی مانگی اور امید ظاہر کی کہ ٹینس منتظمین ان کی غلطی کی وجوہات پر غور کریں گے اور انہیں کھیلنے کا ایک اور موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ  وہ گذشتہ دس برسوں سے اپنے خاندانی ڈاکٹر کی ہدایت پر اپنی بیماری اور خاندان میں ذیابیطس عام ہونے کی وجہ سے ’ملڈرونیٹ‘ نامی دوا استعمال کر رہی تھیں جو ’میلڈونیم‘ بھی کہلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ’واڈا‘ کی فہرست میں گزشتہ دس برسوں  سے میلڈونیم کے استعمال پر پابندی عائد نہیں تھی اور میں یہ قانونی طور پر استعمال کر رہی تھی، یہ پابندی رواں سال جنوری میں عائد کی گئی۔

ویمنس ٹینس اسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسٹیو سائمن نے کہا ہے کہ انھیں  شاراپوا کے ڈرگ ٹسٹ کی ناکامی پر بہت دکھ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ  شاراپوا گذشتہ 11 سال سے سب سے زیادہ کمانے والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ امریکی جریدرے ’فوربس‘ کے مطابق ماریا  نے 2015 میں تقریباً 3 کروڑ ڈالرز کمائے ہیں۔ ماریا کی ٹسٹ میں ناکامی کے اعلان کے ساتھ ہی انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ 12 مارچ سے اس معاملے کے انجام تک پہنچنے تک معطل رہیں گی جبکہ  مثبت ڈرگ ٹسٹ کے انکشاف کے بعد کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنی نائیکی نے ان سے کئے گئے معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔نائیکی نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہتی۔ کمپنی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں ماریا  سے متعلق اس خبر پر افسوس اور حیرانی ہوئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک تحقیقات جاری ہیں ماریا سے اپنا تعلق معطل کر دیں۔ نائیکی اور ماریا کا تعلق اس وقت سے ہے جب وہ صرف 11 برس کی تھیں اور  2010 میں انہوں نے کمپنی کے ساتھ آٹھ برس کا معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت سات کروڑ ڈالرس تھی۔ نائیکی کے علاوہ گھڑیاں بنانے والی سوئس کمپنی ٹیگ ہوائر نے بھی ٹینس اسٹار سے اپنے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماریا نے  لاس اینجلس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعتراف کیا ہے کہ  رواں برس جنوری میں آسٹریلین اوپن کے دوران ان کا جو نمونہ لیا گیا تھا اس میں ’میلڈونیم‘ نامی دوا پائی گئی ہے اور وہ  2006 سے اپنی بیماری کی وجہ سے ملڈرونیٹ نامی دوا کا استعمال کر رہی ہیں

اور نہیں جانتی تھیں کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے اب اسے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ چند ہی دن قبل مجھے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس سے مجھے پتہ چلا کہ میلڈونیم اس دوا کا (ملڈرونیٹ) دوسرا نام ہے جو کہ میں نہیں جانتی تھی۔ ماریا نے  کہا  کہ میں اس ٹسٹ میں ناکام رہی اور میں اس کی پوری ذمہ داری لیتی ہوں۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ انھوں نے امید بھی ظاہر کی کہ انھیں دوسرا موقع ملے گا اور وہ مستقبل میں ٹینس کھیل سکیں گی۔ ورلڈ ڈوپنگ ایجنسی نے اس معاملے پر کارروائی 12 مارچ تک ملتوی کی ہے تاہم قوی امکان یہی ہے کہ شاراپوا کو پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ماریا  ٹینس کے علاوہ تشہیری معاہدوں اور اشتہارات کے ذریعے اب تک کروڑوں ڈالرس کما چکی ہیں۔ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ماریا 12 مارچ سے اس معاملے کے انجام تک پہنچنے تک معطل رہیں گی۔29 سالہ ماریا شاراپوا نے  2005 میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اب وہ عالمی درجہ بندی  میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ تاہم گذشتہ جولائی کے بعد سے اب تک انھوں نے صرف چار ٹورنمنٹس میں حصہ لیا ہے جس کی وجہ کاندھے میں چوٹ ہے۔ امریکی جریدرے فوربز کی فہرست کے مطابق ماریا  گذشتہ 11 سال سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ وہ ٹینس کے علاوہ تشہیری معاہدوں اور اشتہارات کے ذریعے اب تک کروڑوں ڈالرس کما چکی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT