Thursday , December 13 2018

شارلی ہیبڈو کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت پر جرمن روزنامہ پر حملہ

برلن۔11جنوری( سیاست ڈاٹ کام)آج علی الصبح برلن کی ایک عمارت میں جہاں جرمن روزنامہ کا دفتر واقع ہے ‘آتشزنی کی واردات پیش آئی ۔ اس روزنامہ نے پیغمبر اسلامﷺ کے فرانسیسی طنزیہ ہفتہ وار ’’چارلی ہیبڈو‘‘ میں شائع ہونے والے اہانت انگیز کارٹون دوبارہ شائع کئے تھے ۔ پولیس کے بموجب انہیں شبہ ہے کہ یہ حملہ ہیمبرگ کے روزنامہ ’’ہیمبرگر مورگن

برلن۔11جنوری( سیاست ڈاٹ کام)آج علی الصبح برلن کی ایک عمارت میں جہاں جرمن روزنامہ کا دفتر واقع ہے ‘آتشزنی کی واردات پیش آئی ۔ اس روزنامہ نے پیغمبر اسلامﷺ کے فرانسیسی طنزیہ ہفتہ وار ’’چارلی ہیبڈو‘‘ میں شائع ہونے والے اہانت انگیز کارٹون دوبارہ شائع کئے تھے ۔ پولیس کے بموجب انہیں شبہ ہے کہ یہ حملہ ہیمبرگ کے روزنامہ ’’ہیمبرگر مورگن پوسٹ ‘‘ کی اشاعت سے مربوط ہے ‘ جس میں فرانسیسی ہفتہ وار کے کارٹون ’’ اتنی آزادی تو ہونی چاہیئے ‘‘ کے زیر عنوان دوبارہ شائع کئے تھے ۔ نامعلوم افراد نے روزنامہ کے ریکارڈس پر سنگباری کی اور انہیں نذرآتش کردیا جس کی وجہ سے وہاں پر ذخیرہ کی ہوئی بعض فائلیں تباہ ہوگئیں لیکن کسی بھی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے بموجب دو افراد جن پر اس حملہ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے تحویل میں لے لئے گئے ہیں ۔ پولیس عہدیداروں کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ روزنامہ کے ادارتی عملہ میں سے کوئی بھی دفتر میں موجود نہیں تھا جب کہ عمارت پر حملہ کیا گیا ۔ شہر کے فائربریگیڈ کو 2:22بجے شب فائر آلارم موصول ہوا ۔ آتش فرو عملہ نے کہا کہ آگ جلد ہی بجھادی گئی ‘صرف چند فائل جل کر خاکستر ہوگئے ۔ دو انتہا پسند چند ہی چند قبل شارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ آور ہوئے تھے اور 12افراد کا قتل عام کیا تھا ۔ کیونکہ اس فرانسیسی ہفتہ وار نے پیغمبر اسلامﷺ کے اہانت انگیز کارٹون شائع کئے تھے ۔ جرمن زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ ’’سون ٹاگ‘‘ نے کہا کہ یہ اسی حملہ کا تسلسل معلوم ہوتا ہے ۔ روزنامہ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حملہ کے ساتھ پورے یوروپ میں حملوں کی لہر شروع ہونے والی ہے اور یہ حملہ اس لہر کا صرف ایک اشارہ ہے ۔ کیونکہ امریکی محکمہ سراغ رسانی نے داعش کے جنگجوؤں کی ٹیلی فون پر بات چیت ٹیاپ کر کے یہ معلومات حاصل کی ہیں ۔ دولت اسلامیہ کی خودساختہ حکومت نے فرانسیسی ہفتہ وار پر حملہ کرنے والوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے دنیا بھر کو سخت پیغام مل گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT