Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شاستری پورم مساجد سے متعلق کمشنر سائبر آباد مکتوب تنازعہ کی یکسوئی

شاستری پورم مساجد سے متعلق کمشنر سائبر آباد مکتوب تنازعہ کی یکسوئی

مذہبی مقامات کے متعلق اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی ہدایات

حیدرآباد۔ /16 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے شاستری پورم میں 17 مساجد سے متعلق کمشنر سائبر آباد کے مکتوب سے پیدا شدہ تنازعہ کی یکسوئی کردی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے وزیر داخلہ اور ڈائرکٹر جنرل پولیس سے بات چیت کے بعد پولیس اور مجلس بلدیہ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مذہبی مقامات کے سلسلے میں کوئی اشتعال انگیز بیان جاری نہ کریں ۔ حکومت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ امن و ضبط کی برقراری پر توجہ مرکوز کریں ، برخلاف اس کے کہ مذہبی مقامات کو نشانات بناتے ہوئے کسی طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی جائے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے بتایا کہ کمشنر سائبر آباد کی جانب سے کمشنر جی ایچ ایم سی کو جو مکتوب روانہ کیا گیا تھا اس سے نہ صرف دستبرداری اختیار کرلی گئی بلکہ بلدی حکام نے مساجد کو جو نوٹس جاری کی ہے اسے واپس لے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازعہ کے سلسلے میں جو بھی خاطی پائے جائیں ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی ۔ محمود علی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معاملے کی فوری طور پر یکسوئی کردی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کمشنر سائبر آباد کے مکتوب سے مسلم طبقہ میں بے چینی کا پیدا ہونا فطری ہے اور مختلف گوشوں سے اس سلسلے میں حکومت سے نمائندگی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو بھی واقف کیا گیا اور انہوں نے واضح طور پر ہدایت دی کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہ کیا جائے چاہے وہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ ہو ۔

 

انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر چیف منسٹر ، کمشنر سائبر آباد  اور کمشنر بلدیہ سے وضاحت طلب کریں گے ۔ ان دونوں عہدیداروں نے ماتحت عہدیداروں کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معاملے کی یکسوئی کردی ہے لہذا مسلمانوں کو اس سلسلے میں مزید الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ بعض گوشوں کی جانب سے اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن شہر کے عوام ان سازشوں کا شکار نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امن وضبط کی برقراری کو اولین ترجیح دیتی ہے اور عبادات گاہوں کا احترام اور ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بعض گوشوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اس مسئلہ پر انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ۔
حالانکہ انہوں نے اطلاع ملتے ہی فوری کمشنر سائبر آباد سے بات چیت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ پر مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے فائز ہیں اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار اور کرسی کبھی بھی ان کی ترجیح نہیں رہی ۔ وہ چاہتے ہیں کہ چیف منسٹر نے انہیں جو ذمہ داری دی ہے اسے بخوبی نبھائیں ۔ محمود علی نے کہا کہ عید اور تہواروں کے موقع پر شہر میں پرامن فضاء کی برقراری کیلئے حکومت نے پولیس کو سخت ہدایات جاری کی ہیں ۔ عیدالاضحی اور گنیش تہوار کے موقع پر شہر کی روایتی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا جائے گا اور اس سلسلے میں انہیں یقین ہے کہ عوام کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہوگا ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و ضبط کی برقراری میں حکومت سے تعاون کریں اور افواہوں کا شکار نہ ہوں ۔

TOPPOPULARRECENT