Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / شاستری پورم میں جھولتے ہوئے ہائی ٹینشن برقی تار‘ عوام کے سرپر منڈلاتی موت

شاستری پورم میں جھولتے ہوئے ہائی ٹینشن برقی تار‘ عوام کے سرپر منڈلاتی موت

بڑے اور چھوٹے کیبلس میں محفوظ فاصلہ نہیں ، فنڈز کی موجودگی کے باوجود متعلقہ عہدیداروں کی دانستہ چشم پوشی

بڑے اور چھوٹے کیبلس میں محفوظ فاصلہ نہیں ، فنڈز کی موجودگی کے باوجود متعلقہ عہدیداروں کی دانستہ چشم پوشی
حید رآباد9اپریل (سیاست نیوز) مسلم آبادیوں میں عوام کی صحت اور زندگیوں سے کھلواڑ شاید اب سرکاری انتظامیہ کی فطرت میں شامل ہوگیا ہے۔مسلم آبادیوں میں ایک طرف زمین پر پھیلی گندگی صحت کی تباہی کا سبب بنی ہوئی ہے تودوسری طرف جھولتے ہوئے ہائی ٹینشن برقی تار بھی سرپر منڈلاتی ہوئی موت سے کم نہیں ہیں۔یہ صورتحال چندرائن گٹہ سے شیورام پلی میںواقع بھوانی کالونی کے سب اسٹیشن کو جانے والے 132KVبرقی تاروں کے نیچے موجود محلہ جات کی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چندرائن گٹہ سے شروع ہونے والے132kv برقی تار کوشیورام پلی میں واقع بھوانی کالونی کے سب اسٹیشن تک پہنچانے کے لیے راستہ میں جگہ جگہ ٹاورس تعمیر کروائے گئے جن میں مصطفی نگر ‘ اویسی ہلز‘ شاستری پورم ‘ کنگس کالونی‘ راگھویندرا کالونی‘ این پی اے جیسے گھنی آبادی والے محلہ جات شامل ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ بہادر پورہ علاقہ میں ان ہائی ٹینشن برقی تاروں کو برخاست کرکے چھوٹے کیبلس کے ذریعہ عوام کو برقی سربراہی کا انتظام ایک عرصہ قبل ہی مکمل کرلیا گیاجبکہ نئے شہر میں جہاں کہیں ہائی ٹینشن تارہیں انھیں برخاست کرتے ہوئے چھوٹے کیبلس بٹھانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ لائنیں کافی قدیم ہیں اور ان کی فوری تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔ماہرین کے مطابق، ان برقی تاروں میں برقی رو کا دائرہ 8فٹ ہوتا ہے اور تاروں کے جھولنے کی وجہ سے کوئی بڑا سانحہ پیش آنے کا بھی اندیشہ ہے۔جس وقت یہ لائن ڈالی گئی اس وقت آبادی نہیں تھی لیکن اب اس لائن کے نیچے گنجان آبادیاں پائی جاتی ہیں۔ایسے میں بستیوں میں انٹرٹاورپولس ڈال کر بڑی لائن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ دوسری طرف ایکتا کالونی میں واقع سب اسٹیشن کے اطراف و اکناف کوبرقی سربراہی کے لیے ڈالی گئی 33kvبرقی انکمنگ لائن بھی 10سال پرانی اور بوسیدہ ہوچکی ہے۔معمولی بارش یا ہواؤں کے چلنے سے یہ تار بار بار ٹوٹ جاتے ہیں جس سے گھنٹوں برقی مسدود ہوجاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ برقی کے سی ایم ڈی نے قدیم ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن لائنوں و کنڈکٹرس تبدیل کرنے اور انٹر میڈیٹ پولس نصب کرنے کی نہ صرف ہدایت دی بلکہ اس کے لیے معقول بجٹ بھی موجود ہے لیکن متعلقہ عہدیدار برقی سربراہی کے انتظامات کو بہتر بنانے سے دانستہ طور پر گریز کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب عوام سے بات کی گئی تو پتہ چلا کہ گگن پہاڑ کے اے ڈی ای ، برقی سربراہی کے انتظامات کو بہتر بنانے میں دانستہ طور پر کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ ان کی تعیناتی کو تین برس مکمل ہوچکے ہیں لیکن انھوں نے برقی پولس نصب کروانے کے کوئی اقدامات آج تک نہیں کیے۔ سارے ٹرانسفارمرس اوور لوڈ ہوچکے ہیں۔ ایک جگہ سے فیوز خراب ہونے پر سارے سب اسٹیشن سے سربراہی بند کرکے کام کرنا پڑتا ہے جس سے گھنٹوں برقی سربرہی مسدود رہتی ہے اور عوام کوتکالیف اور وحشت جھیلنی پڑرہی ہے۔ گذشتہ 3برسوں کے دوران انھوں نے جھولتے ہوئے برقی تاروں کو درست کرنے کے تک اقدامات نہیں کیے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اے ڈی ای گگن پہاڑ دراصل آندھرا سے تعلق رکھتے ہیں اور علاقائی تعصب بھی ان میں کافی پایا جاتا ہے۔عوام کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ اے ڈی ای گگن پہاڑ کو فوری تبدیل کرتے ہوئے نئے عہدیدار کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور مصطفی نگر‘ اویسی ہلز‘ شاستری پورم‘ کنگس کالونی ‘ راگھویندرا کالونی اور اطراف میںعوام کو کسی بھی سانحہ سے محفوظ رکھنے کے لیے ہائی ٹینشن وائرس کو برخاست کرکے چھوٹے کیبلس ڈالے جائیں اور قدیم برقی تاروں کی تبدیلی کے ذریعہ برقی سربراہی کے اقدامات کیے جائیں ۔

TOPPOPULARRECENT