Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں /  شامل کرنے کی تجویز سے دستبرداری کا مطالبہ WTO-GATSاعلیٰ تعلیم کو میں

 شامل کرنے کی تجویز سے دستبرداری کا مطالبہ WTO-GATSاعلیٰ تعلیم کو میں

ہندوستان میں تعلیم متاثر ہونے کے خدشات، سیوا ایجوکیشن کمیٹی تلنگانہ کا احتجاج
حیدرآباد 9 اگسٹ (سیاست نیوز) صدر سیوا ایجوکیشن کمیٹی تلنگانہ پروفیسر چکرادھر راؤ نے مرکز میں نریندر مودی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی جانب سے ملک کے شعبہ اعلیٰ تعلیم کو WTO-GATS میں شامل کرتے ہوئے ملک میں بیرون اعلیٰ تعلیم کے مراکز قائم کرنے کی راہ ہموار کرنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ دیا کہ وہ فوری طور پر اس منصوبہ سے دستبرداری اختیار کریں بصورت دیگر مرکزی حکومت کے خلاف ملک گیر سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرامس منظم کئے جائیں گے۔ وہ آج سیوا ایجوکیشن کمیٹی کے زیراہتمام مرکزی حکومت کی جانب سے شعبہ اعلیٰ تعلیم کو WTO-GATS میں شامل کرنے کے منصوبہ کے خلاف بطور احتجاج اندرا پارک دھرنا چوک پر منظم کردہ احتجاجی ریالی و دھرنا سے مخاطب تھے۔ انھوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیاکہ وہ ملک میں بیرونی اعلیٰ تعلیم کے مراکز کے قیام کو حوالہ کرکے تعلیم کو بین الاقوامی تجارت میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے نتیجہ میں ملک کے غریب، متوسط، معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے لئے اعلیٰ تعلیم کا حصول دشوار کن ثابت ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ ماہ ڈسمبر میں نیروبی میں 15 تا 18 ڈسمبر منعقد شدنی 10 ویں منسٹریل کانفرنس جس میں 160 ممالک حصہ لیں گے جہاں پر مرکزی حکومت حصہ لیتے ہوئے WTO-GATS معاہدے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے ملک کے اعلیٰ تعلیم کے شعبہ پر گہرے اثرات مرتب ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ملک بھر میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے شعبہ تعلیم پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ملک میں واقع کئی مدارس، کالجس اور یونیوسٹیز کئی مسائل سے دوچار ہیں جہاں پر اساتذہ، لکچررس، اور وائس چانسلرس کے عدم تقررات کے نتیجہ میں طلباء میں صلاحیتوں کا فقدان بڑھتا جارہا ہے اور ملک کے تعلیمی مراکز کا مستقبل خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ ملک میں شعبہ اعلیٰ تعلیم کو WTO-GATS میں شامل کرنے کے منصوبے کو ترک کرتے ہوئے ملک میں واقع تمام سرکاری مدارس، کالجس اور یونیورسٹیوں کو درکار اہم بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مذکورہ سرکاری تعلیمی مراکز میں مخلوعہ اساتذہ، لکچررس اور وائس چانسلرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے تاکہ ملک کے تمام غریب اور متوسط طبقات کو بھی اعلیٰ تعلیم کے ذرائع میسر ہوں۔ انھوں نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیاکہ وہ ریاست میں کے جی تا پی جی نظام تعلیم کا آغاز کرے۔ جنرل سکریٹری سیوا ایجوکیشن کمیٹی تلنگانہ پروفیسر ہرا گوپال نے مرکزی حکومت کے اعلیٰ تعلیم شعبہ کو WTO-GATS میں شامل کرنے کے منصوبہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے طلباء اور اساتذہ تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اپنے احتجاج کو ماہ ڈسمبر تک جاری رکھیں تاکہ ملک بھر کے عوام میں حکومت کی مخالف تعلیم پالیسی سے متعلق شعور بیدار کیا جاسکے۔ اس موقع پر نائب صدور سیوا ایجوکیشن کمیٹی تلنگانہ مسرز کے نارائنا، ڈاکٹر ایم گنگادھر، اے نرسمہا ریڈی، سکریٹری کمیٹی مسٹر کے روی چندرا، صدر کھمم کمیٹی مسٹر بابو راؤ، صدر ٹی پی ٹی ایف مسٹر منوہر راؤ، پروفیسر شریمتی کاتیاہی ودماہی، پرنسپال ایم این آر ڈاکٹر وینکنا، مسٹر کشٹپا، ستیہ نارائنا، پرشانت نے بھی مخاطب کیا۔ قبل ازیں اس موقع پر سندریا وگنان کیندرم تا اندرا پارک احتجاجی ریالی منظم کی گئی جس میں سیوا ایجوکیشن کمیٹی تلنگانہ کے قائدین کے علاوہ مختلف اساتذہ اور طلباء تنظیموں ٹی پی ٹی ایف، ڈی ٹی ایف، پی ڈی ایس یو، پی وائی ایل اور دیگر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT