Tuesday , December 11 2018

شامی امن مذاکرات کے دوران 1,900 افراد ہلاک

بیروت ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے زیراہتمام سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شام پر امن بات چیت کے آغاز کے ایک ہفتہ کے دوران اس عرب ملک میں تقریباً 1,900 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں کم سے کم 430 عام شہری بھی شامل ہیں۔ برطانیہ میں واقع شامی مبصر ادارہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہیکہ 22 جنوری کو جنیوا مذاکرات کے آغاز کے بعد سے کل شام تک

بیروت ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے زیراہتمام سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شام پر امن بات چیت کے آغاز کے ایک ہفتہ کے دوران اس عرب ملک میں تقریباً 1,900 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں کم سے کم 430 عام شہری بھی شامل ہیں۔ برطانیہ میں واقع شامی مبصر ادارہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہیکہ 22 جنوری کو جنیوا مذاکرات کے آغاز کے بعد سے کل شام تک 1,870 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ اس مبصر ادارہ نے کہا کہ مہلوکین میں وہ 430 عام شہری بھی شامل ہیں جو بم حملوں، نامعلوم افراد کی فائرنگ اور میزائیل حملوں کے نتیجہ میں فوت ہوئے ہیں۔

ماباقی مہلوکین باغی بتائے گئے ہیں جو القاعدہ کے عسکریت پسند ہے اور دوسرے صدر بشارالاسد کے وفادار فورسیس سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہیں۔ شامی تصادم کے خاتمہ کیلئے ایک ہفتہ طویل بات چیت کے باوجود جنیوا کانفرنس کوئی نتیجہ برآمد کرنے میں ناکام ہوگئی ہے لیکن توقع کی جارہی ہیکہ وہ مستقبل میں کوئی حل برآمد کرے گی۔ برطانیہ میں واقع شامی مبصر ادارہ بالعموم مہلوکین کی تعداد کیلئے اپنے کارکنوں کی طرف سے فراہم کی جانے والی اطلاعات پر انحصار کرتا ہے جس کے مطابق شام میں جاری خانہ جنگی میں تاحال 130,000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT