Saturday , November 25 2017
Home / دنیا / شامی جارحیت کی تائید میں روس کے کروز میزائیل حملے

شامی جارحیت کی تائید میں روس کے کروز میزائیل حملے

روس کو فرانس کی تائید کا ادعا ، فرانس کی جانب سے سختی سے تردید
ماسکو ۔ 7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) روس کے لڑاکا بحری جہاز آج شام پر حملوں میں شامل ہوگئے۔ کروز میزائیل کی بوچھار کردی گئی۔ صدر روس ولادیمیر پوٹن نے عہد کیا کہ ان کی فضائیہ سرکاری افواج کی زمینی یلغار کی تائید کرے گی۔ بحر کیسپین سے جنگی بحری جہازوں کا روزی بیڑا جس میں 26 کروز میزائیل بردار بحری جہاز شامل تھے، روس کے 11 اہداف پر جو 1500 کیلو میٹر کے فاصلہ پر شام میں موجود ہیں، کروز میزائیل داغے گئے۔ صدر روس نے کہا کہ روس کے یہ حملے شامی فوج کی زمینی یلغار اور روسی فضائیہ کے حملوں سے ہم آہنگ تھے اور زمینی کارروائی کی تائید کررہے تھے۔ وزیردفاع روس سرجیو شوئیگو میں ٹی وی پر اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ زیرقیادت مخلوط اتحاد کی دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی، ترکی اور سعودی تعاون کے بغیر روسی حملے مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔ روسی افواج نے شام میں گذشتہ ہفتہ بمباری کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد اب تک دولت اسلامیہ کے 112 اڈوں پر حملے کئے ہیں۔ شوئیگو نے کہا کہ حملوں کی شدت میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ روس شام کے تنازعہ میں اپنے ملوث ہونے کی شدت میں اضافہ کررہا ہے۔ چار روسی جنگی بحری جہاز شام میں کروز میزائیل بوچھار کرنے کی مہم پر ہیں۔ فضائیہ کے علاوہ چار بحری جہاز بحرکیسپین سے روانہ کئے گئے ہیں۔ وزیردفاع روس نے کہا کہ 11 نشانوں پر 26 کروز میزائیل داغے جاچکے ہیں۔ فوج کے ترجمان نے روسی نیوز پر کہا کہ بحری جنگی جہازوں کے حملے دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے ملحق النصرہ محاذ کے ٹھکانوں پر کئے گئے ہیں

۔ روس نے ایک ہفتہ قبل شام میں فضائی حملوں کا صدر بشارالاسد کی درخواست پر آغاز کیا تھا۔ روسی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو کی نمائش کی ہے جس میں تاریکی میں بحری جہاز سے میزائیل داغے جارہے ہیں ۔ جنہوں نے ایران اور عراق پر سے گذرتے ہوئے اپنے اہداف کو تلاش کرلیا ہے۔ ماسکو کا دعویٰ ہیکہ اس نے صرف دولت اسلامیہ اور دہشت گردوں کے اڈوں پر حملے کئے ہیں۔ صدر پوٹن نے بھی کہا کہ صدر فرانس فرینکوئی اولاند نے اس کی فوج کی کوششوں کی مغربی حمایت یافتہ آزاد شامی فوج کی تائید ضروری ہے۔ اولاند کے ایک قریبی ساتھی نے صدر فرانس کے ایسے کسی بھی بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔ گذشتہ دورہ پیرس کے موقع پر صدر فرانس نے مبینہ طور پر ایک دلچسپ نظریہ پیش کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT