Friday , June 22 2018
Home / دنیا / شامی خانہ جنگی آئندہ دس سال تک جاری رہنے کا اندیشہ : مبصرین

شامی خانہ جنگی آئندہ دس سال تک جاری رہنے کا اندیشہ : مبصرین

واشنگٹن ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شامی حکومت کو ماسکو اور تہران کا مسلسل تعاون حاصل ہے جبکہ متعدد جہادی گروہوں کے ارکان بھی شام میں میدان جنگ کا رخ کرتے ہی جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ ممکنہ طور پر آئندہ ایک دہائی تک جاری رہ سکتا ہے۔ ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ سے وابستہ تجزیہ کار ڈیوڈ گارٹن اسٹائن نے جمعرات ک

واشنگٹن ، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شامی حکومت کو ماسکو اور تہران کا مسلسل تعاون حاصل ہے جبکہ متعدد جہادی گروہوں کے ارکان بھی شام میں میدان جنگ کا رخ کرتے ہی جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ ممکنہ طور پر آئندہ ایک دہائی تک جاری رہ سکتا ہے۔ ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ سے وابستہ تجزیہ کار ڈیوڈ گارٹن اسٹائن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کو بتایا کہ ایک سال پہلے کی ایسی پیش قیاسیاں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کچھ ہی ماہ کی ہے، غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اِس وقت امریکی انٹلیجنس کمیونٹی جس طرح کی صورتحال کا تجزیہ کرتی ہے، اُس کے تحت یہ خانہ جنگی آئندہ ایک دہائی تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

گارٹن اسٹائن نے شام کے حوالے سے امریکی پالیسی کو ’الجھن کی شکار‘ اور کسی ’واضح حتمی نتائج سے قاصر‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا، ’’شامی جنگ ایک بڑا سانحہ ہے اور ممکنہ طور پر اِس کا اختتام بھی سانحہ خیز ہو سکتا ہے۔ امریکہ ممکنہ طور پر اِسے تبدیل نہیں کر سکتا، خواہ وہ اِس تنازعے میں اور زیادہ کردار ادا کرے۔‘‘ شامی تنازعے کے حل کیلئے جنیوا امن مذاکرات کے دو دور کسی نتیجے بغیر ختم ہو چکے ہیں اور تاحال تیسرے دور کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران دمشق انتظامیہ کیلئے روس اور ایران کی جانب سے ہتھیاروں اور مالی امداد سے صدر اسد کی پوزیشن تو خاصی مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہے، البتہ شامی تنازعہ میں جہادیوں کے بڑھتے ہوئے کردار کے سبب مغربی ممالک اعتدال پسند اپوزیشن کی کھل کر حمایت نہیں کر پا رہے ہیں۔ شام میں جاریہ بحران کے میں تقریباً 140,000 افراد ہلاک اور 6.5 ملین ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT