Tuesday , December 11 2018

شامی فوج کا غوطہ کے 70% علاقہ پر کنٹرول کا دعویٰ، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

گزشتہ سات سال میں ایک انتہائی شدید انسانی المیہ
باغیوں کا تعلق مختلف گروپس سے ہے اور گروپس کی
آپسی لڑائی کا فائدہ شامی حکومت کو ہورہا ہے

دمشق ۔17مارچ(سیاست ڈاٹ کام) شورش زدہ شام میں بشار الاسد کی فوج اور ان کی حمایت میں روسی فوج کی بمباری سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔وہاں جنگجوؤں کے مختلف گروپس غوطہ پر کنٹرول کیلئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں،اور اسی درمیان یہاں پھنسے ہوئے لوگ اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر نکل رہے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں شام میں لڑائی زدہ علاقے مشرقی غوطہ اور عفرین سے 60ہزار افراد اپنی جان بچانے کے لیے نکلے ہیں۔مشرقی غوطہ میں حکومت افواج کی بمباری کی وجہ سے 16,000 افراد نکل چکے ہیں۔ اس علاقے حکومتی افواج باغیوں پر بمباری کر رہی ہیں۔شام کے شمالی قصبے عفرین سے بھاگنے والے 30,000 افراد میں سے 18 افراد ترکی کی جانب سے کی جانے والی شلباری کی زد میں آ کر مارے گئے ۔مشرقی غوطہ میں حکومتی افواج نے دوبارہ شدید بمباری شروع کی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے ۔غوطہ میں جمعہ کو روس کے فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 31 افراد ہلاک ہو گئے ۔برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری نے جمعہ کو غوطہ کے مشرقی صوبے میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے ۔سیرین آبزرویٹری کے مطابق جمعرات کو بھی 20,000 شہری باغیوں کے زیر انتظام علاقوں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے ۔اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تین ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔غوطہ کا شمار ان چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے ۔ فورسز نے گذشتہ ماہ مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اگرچہ یہ علاقہ باغی فورسز کے کنٹرول میں ہے تاہم وہاں سے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات کو معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔خیال کیا جا رہا ہے کہ چہارشنبہ کی صبح 25 ایسے خاندانوں کو کامیابی سے حکومتی چیک پوائنٹ کے راستے نکال لیا گیا ہے جنھیں طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اس سے قبل منگل کو 31خاندانوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے ۔شام میں جاری جنگ کے سات سال مکمل ہونے کے موقع پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارہ نے گذشتہ روز اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیہ کے طور پر بیان کیا ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق ان سات سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ 2011 سے شروع ہوئی بغاوت کے نتیجے میں اب تک 4 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT