Wednesday , December 19 2018

شامی فورسز کا یبرود پر مکمل کنٹرول، باغیوں کی پسپائی

بیروت ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شامی فورسز نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے تعاون سے لبنانی سرحد سے ملحق ایک اہم علاقے سے باغیوں کو پسپا کر دیا ہے۔ دمشق حکومت کے مطابق اتوار کو اس کی افواج تاریخی شہر یبرود کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ شامی فورسز کی طرف سے جنگی نقطہ نظر سے انتہائی اہم شہر یبرود پر کنٹرول حاصل کرلینے کو صدر بشار

بیروت ، 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شامی فورسز نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے تعاون سے لبنانی سرحد سے ملحق ایک اہم علاقے سے باغیوں کو پسپا کر دیا ہے۔ دمشق حکومت کے مطابق اتوار کو اس کی افواج تاریخی شہر یبرود کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ شامی فورسز کی طرف سے جنگی نقطہ نظر سے انتہائی اہم شہر یبرود پر کنٹرول حاصل کرلینے کو صدر بشار الاسد کی ایک اہم کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ اب دارالحکومت دمشق کو حلب سے ملانے والے اہم راستوں کے علاوہ بحیرۂ روم تک کے ساحلی علاقوں میں بھی شامی فورسز کھلے عام سفر کر سکیں گی۔ خبر

رساں ادارہ روئٹرز نے بیروت کی اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری شدید لڑائی کے بعد شامی فوجیوں نے اتوار کو یبرود کے گرد و نواح میں اپنی چوکیاں قائم کر لیں۔ شام کے شمال میں یبرود باغیوں کا آخری اہم ٹھکانہ تھا۔ باغیوں کو لبنان سے ملنے والی سپلائی کیلئے یہی راستہ استعمال ہوتا تھا جبکہ باغی اس علاقے سے دمشق اور حمص کے کچھ علاقوں کو بھی کنٹرول کر رہے تھے۔ یوں یبرود کا باغیوں کے ہاتھ سے نکلنا ان کیلئے ایک بڑا دھکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اتوار کو شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ فوج نے یبرود میں دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کر دیا

جبکہ بہت سے شدت پسند رنکوس اور نواحی پہاڑی علاقوں کی طرف فرار ہو گئے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب یبرود میں سلامتی و استحکام کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ شامی فوج نے اسے ایک اہم کلیدی فتح بھی قرار دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے گزشتہ کئی ہفتوں سے یبرود کا محاصرہ کر رکھا تھا اور شدید لڑائی کے بعد وہ ہفتے کے دن شہر میں داخل ہو گئی تھیں۔ روئٹرز نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران فری سیریئن آرمی، الاحرار الشام اور دیگر باغی گروہوں کے کم ازکم 1400 جنگجو یبرود کو خیر باد کہہ گئے تھے جبکہ النصرہ فرنٹ کے ایک ہزار جنگجو شامی فورسز کا مقابلہ کر رہے تھے۔ لیکن اتوار کو القاعدہ سے وابستہ یہ جنگجو بھی یبرود کے مشرقی اضلاع کی طرف فرار ہو گئے۔

TOPPOPULARRECENT