Sunday , June 24 2018
Home / اداریہ / شام اور عالمی برادری

شام اور عالمی برادری

آپ کو خود بھی گذرنا ہے ادہر سے ہوکر
راستہ عشق کا ہموار کئے جاؤں گا
شام اور عالمی برادری
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جواب نہیں دیا گیا تو گذشتہ 7 سال سے تباہی کاشکار ملک شام کے باشندوں پر وہاں کی حکومت اور اس کی سرپرستی کرنے والے روس و دیگر ممالک کے حوصلے بڑھ جائیں گے۔ بشارالاسد حکومت کی جانب سے مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں خاص کر امریکہ، برطانیہ، فرانس بہت جلد فیصلہ کریں۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ شام میں جاری یکطرفہ کارروائیوں کے خلاف میزائل برسائیں گے۔ شام کے معصوم نہتے باشندوں پر بشارالاسد حکومت اور روسی فوج کی جانب سے کی جارہی ظلم و زیادتیوں کو روکنے کیلئے انہوں نے شام پر کسی بھی وقت میزائل کی بارش کرنے کا انتباہ دیا تھا مگر اب وہ شام سے متعلق فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار معلوم ہوتے ہیں۔ وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کو ان کی کابینہ نے شام کے خلاف کارروائی کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم سے اس خصوص میں بات چیت بھی کی تھی اور شام میں سرکاری طاقتوں پر لگام کسنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا تھا جبکہ امریکہ نے اب تک قطعی فیصلہ نہیں کیا۔ اس نے فوجی کارروائی کے علاوہ سفارتی چیانلس کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کرنے پر غور کرنا شروع کیا ہے۔ اس کے لئے یہی یہ اختیار باقی رہ گیا ہیکہ سفارتی سطح پر کام کرتے ہوئے کسی بھی خون خرابے کے بغیر مثبت نتائج کی توقع کی جائے۔ امریکہ کے اندر شام کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق دو رائے پیدا ہوئے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ٹوئیٹ پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے بشارالاسد کو سبق سکھانے کی بات کررہے ہیں تو ان کے مشیران ایسا کرنے سے باز رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں خاص کر جب روس نے شام میں امریکہ کی جانب سے کسی بھی امکانی حملہ کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا تو صدر ٹرمپ کا موقف کمزور دکھائی دینے لگا۔ امریکی ڈیفنس سکریٹری جم میٹس نے ہاؤز آرمڈ سرویس کمیٹی کو واقف کروادیا کہ شام پر فضائی حملے سے یہ اندیشہ پیدا ہوگا کہ اس خطہ میں لڑائی مزید بھڑک اٹھے گی اور یہ لڑائی بے قابو ہوجائے گی۔ صدر ٹرمپ نے شام میں معصوم بچوں کی اموات پر صدمہ ظاہر کرتے ہوئے ان حملوں کا جواب دینے کا عزم کیا تھا لیکن عزم اور عمل میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ روس کی جانب سے سخت جوابی حملے کی دھمکی دی گئی تو صدر ٹرمپ کا عزم سرد پڑ گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سلامتی مشیروں سے ملاقات کے دوران شام پر حملے کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو اس سے یہ واضح ہوتا ہیکہ شام کا مسئلہ جنگ جیسی صورتحال پیدا کرنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے پرامن مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعہ حالات کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔ شام کو اپنے ہی عوام پرکیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رکھنے کیلئے ایک طاقتور جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جارہا ہے۔ شام کے تنازعہ پر سر جوڑ کر مل بیٹھنے کی کوشش کرنے والے برطانیہ، امریکہ اور فرانس کو آئندہ 24 گھنٹوں میں کوئی قدم اٹھانا ضروری ہوگا کیونکہ برطانوی کابینہ نے شام میں جنگ سے متعلق کسی بھی فیصلے کا اختیار اپنے وزیراعظم تھریسامے کو سونپ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا ساتھ دینے کا وعدہ کرنے کے بعد تھریسامے نے فرانسیسی قیادت کو بھی اس خصوص میں راضی کروانے کی بات کی ہے تو صدر ٹرمپ کو ہی اب یہ فیصلہ لینا ہیکہ آیا وہ اپنے قول کے مطابق فعل پر عمل کریں گے یا نہیں یا پھر وہ روس کی دھمکی کے بعد اپنے فیصلہ سے پیچھے ہٹ جانے کا بہانہ تلاش کررہے ہیں۔ شام کی بشارالاسد حکومت سے اگر عالمی طاقتیں پوچھ گچھ نہیں کریں گی تو شام میں خون ریزی کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ پر بھی زور دیا جارہا ہیکہ وہ کچھ قدم اٹھائے مگر اقوام متحدہ میں روس کو جو ویٹو اختیار حاصل ہے اس کے پیش نظر اقوام متحدہ اس کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار غور کرے گا۔ ایسے میں عالمی انصاف کی دہائی دینے کا مقصد بھی فوت ہوجائے گا۔ یعنی ساری دنیا میں تھانیداری کا کردار ادا کرنے کا اختیار رکھنے کے باوجود اقوام متحدہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہورہا ہے تو یہ افسوسناک بات ہوگی۔ اب عالمی طاقتوں کو انفرادی طور پر غور کرنا پڑے تو اس کیلئے برطانیہ، امریکہ فرانس، جرمنی، یوروپی یونین ہی کو امن اقدامات کیلئے متبادل راہوں کو تلاش کرتے ہوئے جس طرح کی کشیدہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اسے ختم کرکے روس اور شام کو اس کی ذمہ داریوں کی پابندی کرنے کیلئے تیار کروانا ہوگا یہ تو ظاہر ہوچکا ہیکہ ٹرمپ کے انتباہ کے بعد روس اس خطہ میں جنگ ٹالنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بظاہر دھمکیاں دی ہیں مگر وہ بھی غیرضروری آگ میں ہاتھ ڈالنے کی حماقت نہیں کرے گا۔
ملک کی بیٹیوں کے ساتھ انصاف
ہندوستان میں خواتین اور معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور جرائم کے واقعات نے سنگین صورتحال پیدا کردی ہے۔ حکمراں طبقہ خاص کر وزیراعظم اس مسئلہ پر اب تک خاموش تھے کچھ حقیقتیں بند آنکھوں میں بھی سامنے آجاتی ہیں تو خاموشی کو توڑنے کیلئے مجبور ہوجانا پڑتا ہے۔ صرف نظر کے ساتھ حکومت کرنے کا مطلب ٹھیک نہیںہوتا۔ کٹھوا اجتماعی عصمت ریزی واقعہ اور اترپردیش کے اناؤ عصمت ریزی کیس پر مرکزی حکمراں کی خاموشی پر شدید احتجاج ہونے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بہرحال یہ کہا کہ ہماری بیٹیوں کو انصاف ملے گا۔ خاطیوں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا جبکہ افسوسناک حقیقت یہ ہیکہ اترپردیش کی ادتیہ ناتھ یوگی حکومت نے اناؤ عصمت ریزی کیس میں بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ سی بی آئی نے انہیں گرفتار کرلیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی رکن اسمبلی کے خلاف عصمت ریزی الزام کے بعد انہیں فوری گرفتار کیا جاتا اور چیف منسٹر یوگی کی جانب سے متاثرین کی ہرممکنہ مدد کرنے کا تیقن دیا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ بی جے پی حکومت نے تمام واقعات کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی۔ کٹھوا میں 8 سالہ معصوم لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور بیدردی سے اس کا قتل کرنے والے جب آزاد گھوم رہے ہوں تو عوام کا غضبناک ہوکر سڑکوں پر نکل آنا انسانی فطری عمل کا مظہر ہے۔ دہلی انڈیا گیٹ پر اپوزیشن کانگریس نے عوام کے کینڈل احتجاج میں حصہ لیا۔ مرکز کی مودی حکومت میں اس طرح واقعات میں اضافہ ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال کو ظاہر کررہے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے دیر سے ہی سہی یہ محسوس کیا ہیکہ مہذب معاشرہ میں ان واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ملک اور معاشرہ کیلئے شرم کی بات ہے۔ حکمراں قائدین ان سنگین واقعات پر بھی رواداریوں کی مشق کرنے کے بجائے اداکاریاں کرنے لگتے ہیں تو یہ اچھی نہیں لگتی۔ ایسے میں عوام بھی اپنی خود داریوں کا مظاہرہ ہی کرتے رہیں گے تو ان کی یہ اتنی خود داریاں بھی اچھی نہیں ہوتی۔ کٹھوا کے ساتھ اناؤ کے واقعات کے خلاف یہ عوام ہی کی برہمی تھی کہ وزیراعظم نے لب کشائی کی اب انہیں اپنے قول کے مطابق حقیقتاً ملک کی بیٹیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT