Thursday , January 18 2018
Home / عرب دنیا / شام اور عراق کی آخری سرحد بھی دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں

شام اور عراق کی آخری سرحد بھی دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں

طرابلس ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شامی افواج کے کنٹرول والے آخری سرحدی راستے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔سیریئن آبزویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے بعد حکومتی افواج نے حمص شہر میں عراقی سرحد کے قریب الطنف کی کراسنگ خالی کرنا شروع کر دی ہے۔الط

طرابلس ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شامی افواج کے کنٹرول والے آخری سرحدی راستے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔سیریئن آبزویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی پیش قدمی کے بعد حکومتی افواج نے حمص شہر میں عراقی سرحد کے قریب الطنف کی کراسنگ خالی کرنا شروع کر دی ہے۔الطنف کو شامی افواج ایسے موقع پر خالی کر رہی ہیں جب دولتِ اسلامیہ کے جنگجو جمعرات کو تاریخی شہر پیلمائرا پر قبضے کے بعد اس کے نواح میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات پر بھی قابض ہوگئے ہیں۔سیریئن آبزویٹری گروپ کے مطابق دولت اسلامیہ شام کے 50 فیصد علاقے پر قابض ہو چکی ہے اور رقہ، حلب، حمص، حماہ سمیت اہم صوبوں پر اْن کا کنٹرول ہے۔ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شامی افواج نے تاریخی شہر پیلمائرا کی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے میں جانے سے قبل وہاں کی آبادی کو نقل مکانی نہیں کرنے دی تھی۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں پھنس جانے والے عام شہریوں کی حالتِ زار کے بارے میں ’شدید تشویش‘ کا شکار ہے۔دولتِ اسلامیہ ماضی میں عراق میں نمرود اور حضر کے تاریخی ورثے کو تباہ و برباد کر چکی ہے اور پیلمائرا کے نواح میں واقع صدیوں پرانے کھنڈرات بھی اب اْن کے قبضے میں ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے کا کہنا ہے کہ ان تاریخی باقیات کی تباہی ’انسانیت کے لیے بڑا بہت نقصان ہو گا۔‘ تاہم تاحال ان آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچائے جانے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔یونیسکو نے ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شدت پسند انھیں تباہ و برباد کر سکتے ہیں۔امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں پیلمائرا اور عراق میں رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری مہم کو دھچکہ پہنچا ہے۔تاہم امریکی صدر بارک اوباما کا یہ بھی کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ان حالیہ ناکامیوں کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT