Monday , July 23 2018
Home / Top Stories / شام سے متعلق فیصلہ کرنے ٹرمپ تذبذب کا شکار

شام سے متعلق فیصلہ کرنے ٹرمپ تذبذب کا شکار

قومی سلامتی مشیران، فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیراعظم سے مشاورت
وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس کی وضاحت
واشنگٹن ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہیکہ شام میں بشارالاسد حکومت نے جس طرح معصوم اور بے قصور شہریوں پر کیمیکل حملے کروائے ہیں، ان کا منہ توڑ جواب آخر کس طرح دیا جائے۔ وائیٹ ہاؤس سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اپنے قومی سلامتی مشیران سے ہوئی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ دریں اثناء وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے کہا کہ صدر موصوف نے قومی سلامتی ٹیم سے ابھی ابھی ملاقات کرتے ہوئے مشاورت کی ہے۔ تاہم اب تک شام سے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ سارہ سینڈرس نے کہا کہ صدر موصوف اس سلسلہ میں آج فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے بھی بات چیت کریں گے تاکہ ان سے مشاورت کے بعد بشارالاسد حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کا کوئی لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلہ میں انٹلیجنس کی رپورٹس کا بھی بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں ہم (امریکہ) اپنے شراکت داروں اور حلیفوں سے بھی مسلسل ربط میں ہیں۔ یاد رہیکہ قبل ازیں ٹرمپ نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان حالات پر نہ صرف گہری بلکہ قریبی نظر رکھی جائے کیونکہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ جس طرح معصوم شہریوں کا جن میں بچے بھی شامل ہیں، قتل عام کیا جارہا ہے، اس سے انسانیت بھی لرز گئی ہے۔ ہم نے دولت اسلامیہ کے خلاف کافی مؤثر کارروائی کی ہے اور اس کے دانت کھٹے کردیئے ہیں۔ تاہم اب ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جہاں فیصلہ لینا ذرا مشکل ثابت ہورہا ہے۔ فیصلہ توخیر ہوکر ہی رہے گا لیکن یہ فیصلہ عاجلانہ نہیں ہوگا بلکہ کافی غوروخوض کے بعد ہوگا اور اس سے آپ لوگوں کو (صحافیوں) بھی مطلع کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ کیمیکل حملوں کیلئے بشارالاسد حکومت اور روس ذمہ دار ہیں جس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ دوسری طرف ایوان کی آرمڈ سرویسیس کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر امریکی وزیردفاع جم میٹس نے قانون سازوں سے کہا تھا کہ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔

یہ حیلے بہانے اب ہمارے لئے ناقابل قبول ہیں۔ دنیا میں کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کیلئے حیلے بہانے نہیں چلتے۔ ’’میں بھوکا تھا میں نے کھانا چرا کر کھا لیا‘‘۔ یہ بات قابل معافی ہے لیکن انسانی جانوں کا اتلاف کسی بھی بہانے سے منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ میٹس نے کہا کہ اوباما دورحکومت میں بھی کیمیکل ہتھیاروں پر قابو پانے کی کوشش کی گئی تھی اور ان ممالک کی فہرست بھی تیار کی جارہی تھی جو کیمیکل ہتھیاروںکا بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں لیکن تعجب کی بات ہیکہ پھر نہ جانے کیا ہوا اور اس کے بعد نہ کچھ سننے میں آیا اور نہ کچھ دیکھنے میں۔ دیکھنے میں اب آیا ہے اور وہ ہے شام میں کئے گئے کیمیکل حملے۔ اس کا واضح مطلب ہیکہ بشارالاسد حکومت کے پاس کیمیکل ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ تب بھی موجود تھا اور اب بھی موجود ہے۔ بشارالاسد اگر آج بھی برسراقتدار ہیں تو اس کی وجہ ہے اقوام متحدہ میں روس کی جانب سے کئے گئے مسلسل افسوسناک ویٹوز اور اس کے علاوہ روس اور ایران کی فوجیں۔ لہٰذا ذرا غور کریں کہ اس وقت صورتحال بہت زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے اور اس سے نمٹنا بھی اتنا ہی مشکل ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں جنیوا طریقہ کار اور اقوام متحدہ کی جانب سے کئے جانے والے مؤثر اقدامات کے ذریعہ جنگ کا خاتمہ کرتا ہے۔ یہ جنگ اب تک کیوں ختم نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ ایک بار پھر روس ہی ہے جس نے تمام کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم پست حوصلہ ہوچکے ہیں۔ ہماری کوششیں بدستور جاری رہیں گی کیونکہ اس وقت بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ ہے۔ اقوام متحدہ اگر جنیوا طریقہ کار کو روبہ عمل لاتے ہوئے اپنی کوششوں میں شدت پیدا کرے تو ہم نہیں سمجھتے کہ یہ جنگ کیونکر جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے متعدد ممالک کے پناہ گزینوں کو دیکھا ہے۔ ایشیا سے یوروپ، کوسوو سے افریقہ۔ تاہم جس طرح شام کے پناہ گزین خوفزدہ ہیں اور ان کے چہروں پر جو ہوائیاں اڑ رہی ہیں، اسے دیکھ کر پتھر کا دل رکھنے والا بھی پگھل جائے گا۔ جم میٹس نے کہا کہ شام کی جنگ کا ہر حال میں خاتمہ ہونا چاہئے اوراس کیلئے ہماری حکمت عملی وہی ہے جو پہلے تھی یعنی اس کیلئے اقوام متحدہ کو ثالثی کے فرائض ادا کرنے ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ دولت اسلامیہ کی گردن کو بھی اس وقت تک مروڑتے رہنا چاہئے جب تک اس کا دم نہ نکل جائے۔

TOPPOPULARRECENT