Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / شام سے ہزاروں پناہ گزین ترکی سرحد پر پہونچ گئے

شام سے ہزاروں پناہ گزین ترکی سرحد پر پہونچ گئے

روسی پشت پناہی کی حامل بشارالاسد فوج کی اندھا دھند کارروائی ، لوگ وطن چھوڑنے پر مجبور
انکوپینار (ترکی) 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کو پناہ گزینوں کی ایک اور بھاری تعداد کا سامنا ہے جو شام کے روسی پشت پناہی کی حامل حکومت کی جانب سے جاری کارروائی کے باعث ملک چھوڑ کر جانے کے لئے مجبور ہیں۔ ہزاروں شامی باشندے بند سرحد کے قریب جمع ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہاکہ تقریباً 20 ہزار افراد باب السلام کراسنگ پر جمع ہیں اور وہ ترکی میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ جبکہ یہ ملک خونریزی کے باعث پہلے ہی دو ملین سے زائد پناہ گزینوں کو جگہ دیئے ہوئے ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے ادارہ نے بتایا کہ گزشتہ منگل سے اب تک تقریباً 40 ہزار افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ترکی عہدیدار شام کی سرحد کے قریب موجود کیمپس کو خالی کرنے میں مصروف ہیں تاکہ نئے آنے والوں کے لئے جگہ بنائی جاسکے۔ اپوزیشن فورسیس اور تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار عام شہری اِس وقت باغیوں کے زیرکنٹرول حلب شہر میں موجود ہیں جنھیں سرکاری فوج کی کارروائی کا سامنا ہے۔ تقریباً 4 ترکی امدادی ٹرکس کو شام کی سرحد کے اُس پار غذائی اشیاء کی فراہمی کے بعد واپس ہوتے دیکھا گیا۔ ترکی کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھاریٹی نے ایک بیان میں کہاکہ امکانی داخلہ کے پیش نظر ہم نے تمام تیاریوں کو قطعیت دے دی ہے۔ ترکی کو 2014 ء میں اِسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جہاں 2 لاکھ پناہ گزین شام کے کرد ٹاؤن کوبانی سے فرار ہوکر یہاں پہونچے تھے۔ اِس ٹاؤن پر آئی ایس آئی ایس نے قبضہ کرلیا تھا۔ اتھاریٹی نے کہاکہ پناہ گزینوں کو یہاں داخلہ کے بعد بین الاقوامی معیار کے حامل رجسٹریشن سسٹم سے مربوط کیا جارہا ہے۔ اِن میں صحت کے ساتھ ساتھ غذا اور رہائش کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ شام میں سرکاری فوج نے جسے روس کی پشت پناہی حاصل ہے، صوبہ حلب کو نشانہ بنایا ہے جو کبھی باغیوں کا طاقتور گڑھ بن چکا تھا۔ اس کی وجہ سے پڑوسی ترکی میں رسائی آسان ہوگئی تھی۔

یہ شہر اِس وقت بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ مشرقی حصہ پر جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے وہیں مغربی حصہ پر حکومت کا کنٹرول ہے۔ لیکن سرکاری فورس نے شہر کے بیشتر حصے کو باغیوں سے آزاد کرالیا ہے اور فوج کی پیشرفت جاری ہے۔ سرکاری فوج کو روس کی گزشتہ سال 30 ستمبر سے شروع ہوئی مداخلت کے کافی حوصلہ ملا ہے اور وہ آئی ایس کے علاوہ دیگر دہشت گردوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ تجزیہ نگاروں اور سماجی کارکنوں نے کہاکہ روس کے فضائی حملوں کے ذریعہ باغیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کا مقصد صدر بشارالاسد حکومت کی مدد کرنا ہے۔ اس دوران یوروپی یونین عہدیداروں نے ترکی کو پناہ گزینوں کی مدد کی بین الاقوامی پابندی کی یاد دہانی کرائی جو ہزاروں کی تعداد میں اس وقت اُس کی سرحد کے قریب موجود ہیں۔

یوروپی یونین کے توسیعی اور علاقائی پالیسی اُمور کے کمشنر جونس ہان نے کہاکہ جنیوا کنونشن اب بھی برقرار ہے جس میں یہ کہا گیا کہ ہمیں پناہ گزینوں کو پناہ دینی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ تارکین وطن کے اِس بحران پر وہ یوروپی یونین وزرائے خارجہ اور اُن کے ہم منصب سے بات چیت کرچکے ہیں۔ یوروپی یونین کے سفارتی ذرائع نے کہاکہ وزرائے خارجہ کا ایمسٹرڈم میں غیر رسمی اجلاس منعقد ہوگا جس میں پناہ گزینوں کی صورتحال پر غور و خوض کیا جائے گا۔ لکژمبرگ کے وزیر خارجہ جین ایسل بورن نے کہاکہ ہر شخص حلب کی تصاویر کا مشاہدہ کررہا ہے جہاں سے ہزاروں لوگ فرار ہورہے ہیں اور وہ اپنی زندگی بچانے کی فکر میں ہیں۔ ہمیں یوروپ میں پھر ایک بار پناہ گزینوں کے داخلہ کا سامنا ہے اور یہ حلب کے اطراف جاری بے تحاشہ بمباری کا نتیجہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT