Saturday , November 18 2017
Home / دنیا / شام میں القاعدہ کی باغیوں سے جھڑپیں‘ ہتھیار ضبط

شام میں القاعدہ کی باغیوں سے جھڑپیں‘ ہتھیار ضبط

بشارالاسد کی برطرفی ’’ممنوعہ مطالبہ ‘‘حکومت شام کا بیان ‘اپوزیشن صدرشام کی برطرفی کے مطالبہ پر اٹل
بیروت ۔ 13مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) القاعدہ کے جنگجو اور متحدہ جہادیوں کی جھڑپیں باغی گروہوں کے شمال مغربی شام میں رات بھر جاری رہیں ۔ جب کہ وہ اسلحہ کے ذخیرہ میں زبردستی داخل ہوگئے اور ہتھیار ضبط کرلئے ۔ ایک نگرانکار ادارہ نے اپنے ٹوئیٹر پر آج صبح تحریر کیا کہ متحدہ جہادی القاعدہ کے شامی شاخ النصرۃ محاذ اور جندالاقصیٰ نے مشترکہ طور پر متحدہ جہادیوں پر حملہ کیا تھا جو اُسے پسپا کرنے میں ناکام رہے ۔ ڈیویژن 13 کے بموجب جہادی ہمارے تمام اڈوں پر حملہ کر کے ہمارے ہتھیار اور آلات لوٹ لے گئے ۔ یہ واقعہ قصبہ معارف النعمان صوبہ عدلیب میں پیش آیا ۔ گروپ نے طنزیہ انداز میں اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ ہم النصرۃ کے سربراہ محمد الزولانی کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نگرانکار گروپ کے بموجب جھڑپوں میں کم از کم 6جنگجو ہلاک ہوگئے جن میں سے 4کی شناخت ڈیویژن 13 کے جہادیوں کی حیثیت سے کی جاچکی ہے ۔ شامی رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ ڈیویژن 13کا سربراہ لاپتہ ہے ۔ النصرۃ اور جندالاقصیٰ کے تقریباً 40ارکان کا اغوا کرلیا گیا ہے ۔ باغی اتحادی جن کی قیادت النصرۃ اور اسلامی گروپ احراالشام نے صوبہ عدلیب پر گذشتہ سال مکمل طور پر قبضہ کرلیا تھا ۔ ماضی میں النصرۃ دیگر گروپس کو جنہیں امریکہ کی تائید حاصل کی 2015ء کے موسم گرما میں امریکی تربیت یافتہ باغی گروپ ڈیویژن 30 کے کئی ارکان کا اغوا کرچکا ہے ۔

حالیہ ہفتوں میں النصرۃ اور غیر جہادی گروپس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ جمعہ کے دن معارف النعمان میں النصرۃ محاذ کا سیاہ پرچم پُرامن احتجاج کے دوران قصبہ چوک سے اتار کر پھینک دیا گیا تھا ۔ احتجاجی اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے ۔ چار دن قبل اس گروپ نے دھمکی دی تھی کہ حکومت مخالف مظاہرین پر شہر عدلیب میں فائرنگ کی جائے گی ۔ دمشق سے موصولہ اطلاع کے بموجب شام کے ایک دوسرے سے جنگ کرنے والے فریقین صدر بشارالاسد کے مستقبل کے بارے میں ایک دوسرے سے تکرار کررہے ہیں ۔ حکومت نے عہد کیا ہے کہ بشارالاسد کی برطرفی ’’ ممنوعہ مطالبہ ‘‘ ہے ۔ جس کی وجہ سے امن مذاکرات متاثر ہورہے ہیں ۔ جب کہ اپوزیشن نے عہد کیا ہے کہ انہیں زندہ یا مردہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی ثالثی سے بالواسطہ مذاکرات کا کل سے جنیوا میں آغاز ہونے والا ہے ۔ تازہ ترین بین الاقوامی دباؤ کے تحت شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کا حل تلاش کیا جائے گا جس میں تاحال 2,70,000افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن امن کیلئے تازہ دباؤ پہلے ہی سے کئی اعتراضات کا سامنا کررہا ہے ۔

جب کہ بشارالاسد کے مستقبل کے بارے میں دونوں فریقین میں تصادم جاری ہے ۔ اگر دونوں فریقین یہی رویہ برقرار رکھیں تو ان کیلئے جنیوا آنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ ایچ این سی نے کئی بار بشارالاسد کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کو کسی بھی سودے کی لازمی شرط قرار دیا ہے اور اہم اپوزیشن کے مذاکرات کار محمد علاؤش نے کہا کہ صدر بشارالاسد کے امن مذاکرات کا موقع دینے کیلئے مستعفی ہوجانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہاکہ عبوری دور کا آغاز اسی طرح ہونا چاہیئے جیسا کہ بشارالاسد کی موت کی صورت میں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے برقرار رہتے ہوئے بات چیت کا آغاز ناممکن ہے ۔اقوام متحدہ کے سفیر امن اسٹیفن ڈی مسٹورا نے کہا کہ جنیوا کے مذاکرات 10دن سے زیادہ جاری نہیں رہیں گے ۔ سودے بازی ایک نئی حکومت ‘ ایک تازہ دستور اور اقوام متحدہ کی زیرنگرانی صدارتی اورپارلیمانی انتخابات کا احاطہ کرے گا ۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اندرون 18 ماہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جانے چاہیئے ۔صدر بشارالاسد کی اقتدار سے معزولی کے اندرون 18ماہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات لازمی ہیں ۔ عبوری دور میں کسی کو بھی جو دونوں فریقین کیلئے قابل قبول ہو عارضی طور پر صدر مقرر کیا جاسکتاہے ۔

TOPPOPULARRECENT