Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / شام میں القاعدہ کے ہاتھوں باغی قائد اور دیگر 25 افراد کا قتل

شام میں القاعدہ کے ہاتھوں باغی قائد اور دیگر 25 افراد کا قتل

بیروت۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شام کے انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں نے کہا کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نے حریف اسلامی بریگیڈ کے ایک فوجی قائد کو دو کار بم دھماکوں کے ذریعہ شام کے شمالی شہر حلب میں قتل کردیا۔ امکان ہے کہ اس حملے سے باغیوں کے ساتھ خانہ جنگی میں مزید شدت پیدا ہوجائے گی۔ برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے کل ر

بیروت۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شام کے انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں نے کہا کہ القاعدہ کے جنگجوؤں نے حریف اسلامی بریگیڈ کے ایک فوجی قائد کو دو کار بم دھماکوں کے ذریعہ شام کے شمالی شہر حلب میں قتل کردیا۔ امکان ہے کہ اس حملے سے باغیوں کے ساتھ خانہ جنگی میں مزید شدت پیدا ہوجائے گی۔ برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے کل رات دیر گئے کہا کہ القاعدہ سے الحاق رکھنے والی اسلامی مملکت عراق اور لیوانٹ نامی تنظیموں نے کل کے حملے میں 26 افراد کو ہلاک کردیا۔ یہ حملہ حریف باغی گروپ کے فوجی اڈے کے قریب ہوا تھا۔

شام کے باغی گروپ توحید بریگیڈس نے اس خبر کی اپنے ٹوئٹر پر توثیق کرتے ہوئے کہا کہ باغیوں کے کمانڈر عدنان بکر ہلاک کردیئے گئے۔ باغی گروپس کا ایک وفاق عرصہ سے اسلامی مملکت نامی گروپ کے جنگجوؤں سے لڑائی میں مصروف تھا۔ اس گروپ نے کئی باغیوں کی خدمات کرایہ پر حاصل کرنے کا انتہا پسندوں اور متکبر گروپس کا نمائندہ ہے۔ واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب محکمہ خارجہ امریکہ نے شام کے وزیر خارجہ کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ امریکہ، سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات کے دوران حکومت شام سے راست مذاکرات کا خواہاں تھا۔

وزیر خارجہ شام ولید معلم نے شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے کہا کہ مونٹریاکس میں امریکی عہدیداروں نے ان سے خواہش کی تھی کہ شام اور امریکہ کی راست بات چیت منعقد کی جائے۔ وہ سوئٹزرلینڈ کے شہروں مونٹریاکس اور جنیوا میں 10 روزہ امن بات چیت کے اختتام پر وطن واپسی کے دوران طیارہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے حکومت شام سے راست بات چیت کی کبھی خواہش نہیں کی گئی۔ امریکہ نے سرکاری عہدیداروں کی سطح پر شام سے ربط پیدا کرنے کا خصوصی نمائندہ لخدر براہیمی کے ذریعہ خواہش کی تھی،

کیونکہ امریکہ شامی عوام کے مصائب کے خاتمہ کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ خانہ جنگی بند ہوجائے لیکن کسی بھی مرحلے پر امریکہ نے حکومت شام کے ساتھ راست بات چیت کا پیشکش نہیں کیا اور وزیر خارجہ امریکی جان کیری نے حق بیانی کے لئے کبھی معذرت خواہی نہیں کی جو شام کے عوام پر حکومت شام کے مظالم کے بارے میں تھی۔ حکومت شام کی سوئٹزرلینڈ میں بات چیت کا مرکز توجہ حکومت شام کی حکمت عملی تھا۔ وزیر خارجہ شام نے کہا تھا کہ وہ حکومت شام سے ہدایت حاصل کریں گے اور اس کے بعد ہی امریکہ سے راست بات چیت کا اعلان کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT