Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / شام میں امریکہ، برطانیہ کی مداخلت سے شدت پسندی کا خدشہ

شام میں امریکہ، برطانیہ کی مداخلت سے شدت پسندی کا خدشہ

مانچسٹر۔ 18ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شام میں امریکہ یا برطانیہ کی طرف حملے کی صورت یا فوجی مداخلت ہوئی تو برطانیہ کے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں میں (جہادی جنون) شدت پسندی میں اضافہ ا ور شام میں جانے کے رجحانات بڑھ جائیں گے یہ خدشہ اینٹی ٹیررسٹ ماہرین کی طرف سے ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔ یہ وارننگ برطانوی مانچسٹر کے رہنے والے اکیڈ ور

مانچسٹر۔ 18ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شام میں امریکہ یا برطانیہ کی طرف حملے کی صورت یا فوجی مداخلت ہوئی تو برطانیہ کے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں میں (جہادی جنون) شدت پسندی میں اضافہ ا ور شام میں جانے کے رجحانات بڑھ جائیں گے یہ خدشہ اینٹی ٹیررسٹ ماہرین کی طرف سے ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔ یہ وارننگ برطانوی مانچسٹر کے رہنے والے اکیڈ ورکر (فلاحی رضاکار) ڈیوڈ ہینز جسے جہادیوں نے حال ہی میں بے دردی سے قتل کر دیا تھاکہ بعد جاری کی گئی ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ گریٹر مانچسٹر سے درجنوں نوجوان لڑکے لڑکیاں ترکش بارڈرز کے ذریعے شام چلے گئے ہیں تاکہ نام نہاد جہاد میں شریک ہو سکیں۔ چورلٹن مانچسٹر سے 16 سالہ زہرا اور سلمیٰ پہلے ہی شام میں پہنچ کر جہادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں اور خطرہ ہے کہ کئی دوسرے نوجوان بھی بعض نام نہاد جہادی تنظیموں کے ہتھے چڑھ کر شام چلے جائیںگے۔ پولیس اور انٹی ٹیررسٹ اتھارٹیز نے واضح کیا ہے کہ وہ شام سے واپس آنے والوں کو فوری گرفتار کرکے تفتیش کریں گے کہیں انہیں آئی ایس نے ٹرینڈ تو نہیں کیا کہ وہ برطانیہ کے لئے خطرہ بن سکیں۔

چیف سپرنٹنڈنٹس ٹونی مول ہیڈ آف نارتھ ویسٹ کنٹرول ٹیررازم یونٹ نے کہا ہے کہ شام جانے کا ارادہ رکھنے والے معصوم لوگوں پر کڑی نگاہ رکھنے اور انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ غلط روش پر ہیں اور جب وہ واپس لوٹیں گے تو پولیس اُن سے ضرور پوچھ گچھ کرے گی۔ امام ، علمائے کرام ، فزیالوجسٹ ، سوشل ورکرز اور پولیس آفیسرز پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس سلسلے میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ساتھ اس مسئلے پر رابطے کرے گی اور ان کی مناسب رہنمائی کریں گے تاکہ معصوم سادہ لوح کسی جھانسے میں نہ آسکیں اور خود کو کسی بڑی مشکل اور مصیبت میں نہ پھنسا لیں۔ والدین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اس مسئلے پر گفتگو کریں اور بچوں کی حرکات پر نگاہ رکھیں۔

TOPPOPULARRECENT