Tuesday , April 24 2018
Home / دنیا / شام میں امریکی فوجی کارروائی کا امکان برقرار : وزیردفاع

شام میں امریکی فوجی کارروائی کا امکان برقرار : وزیردفاع

زہریلی گیس کے حملو ںمیں روس کے ملوث ہونے کا شبہ
واشنگٹن ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیردفاع امریکہ جیمس مٹیس نے آج نشاندہی کی کہ مشتبہ زہریلی گیس کے حملہ میں روس ملوث ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے شام میں امریکہ کی فوجی کارروائی کا امکان برقرار ہے۔ شام کی سرکاری افواج نے باغیوں کے زیرقبضہ قصبہ دوما میں مبینہ طور پر بے قصور شہریوں پر زہریلی گیس سے حملہ کیا تھا جبکہ حکومت شام کو روس کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ ستمبر 2013ء میں روس نے شام کو کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ منتقل کیا تھا۔ تاہم صدر شام بشارالاسد کی حکومت اس وقت سے شبہ ہیکہ عوام پر بار بار زہریلی گیس کے حملے کررہی ہے۔ وزیردفاع امریکہ مٹیس نے کہا کہ محکمہ دفاع قطر کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اس سلسلہ میں ایک اجلاس منعقد کررہا ہے۔ وہ لوگ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا کیمیائی ہتھیار اب بھی شام میں استعمال کئے جارہے ہیں جبکہ روس نے طمانیت دی ہیکہ تمام کیمیائی ہتھیار شام سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ ہمارے حلیفوں اور ناٹو کے شراکت داروں نے قطر اور دیگر مقامات پر ہمیں تیقن دیا ہیکہ اس مسئلہ کو حل کرلیا جائے گا۔ تاہم امریکی وزیردفاع نے کہا کہ فی الحال ہم شام میں امریکہ کی فوجی کارروائی کے امکانات کو مسترد نہیں کریں گے۔ شام پر کئی بار الزام عائد کیا گیا ہیکہ وہ زہریلے ہتھیار بشمول سرین گیس 7 سال طویل خانہ جنگی کے دوران استعمال کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے 3 لاکھ 50 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ روس کی تائید سے بشارالاسد نے غوطہ میں 7 ہفتہ طویل جنگ کا آغاز کیا تھا جس میں 1700 سے زیادہ شہری ہلاک ہوگئے اور دوما میں محصور اسلام پسند باغی تخلیہ کر گئے اور غوطہ کے سب سے بڑے شہر دوما کو حکومت کے حوالے کردیا۔ 4 اپریل 2017ء کو لڑاکا طیاروں کے خان شیخان (صوبہ ادلیب) پر حملے میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ طبی ذرائع نے اطلاع دی ہیکہ کیمیائی حملے سے مریض مسلسل مصائب میں مبتلاء ہیں۔ حملے کی جوابی کارروائی کے طور پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹوماہاک میزائل حکومت کے شائرات فضائی اڈہ پر کئے۔ یہ واقعہ 6 اپریل کی رات کو پیش آیا۔

TOPPOPULARRECENT