Wednesday , November 22 2017
Home / عرب دنیا / شام میں باغیوں کے آخری مستحکم گڑھ میں صلح

شام میں باغیوں کے آخری مستحکم گڑھ میں صلح

دمشق ۔23جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج دمشق کے قریب باغیوں کے آخری مستحکم گڑھ میں جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ جب کہ باغیوں اور حکومت کے درمیان محصور اپوزیشن کی چوٹی کانفرنس کیلئے محفوظ علاقہ سے اتفاق رائے کیا گیا ۔ شام کے کئی قصبے اور دیہات چھ سالہ خانہ جنگی میں بمباری کا شکار ہوچکے ہیں ۔ دمشق کے قریب غوطہ باغیوں کا آخری مستحکم گڑھ ہے جو صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے جنگ میں مصروف ہیں ۔ مارچ 2011ء سے اب تک جب کہ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے تین لاکھ 30ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ مشرقی غوطہ ان چار مجوزہ علاقوں میں سے ایک ہے جنہیں کشیدگی سے پاک قرار دیا گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں حکومت اور اس کے حلیفوں ایران اور روس کے ساتھ باغیوں کے حامی ترکی سے ماہ مئی میں ایک معاہدہ ہوچکا ہے لیکن یہ معاہدہ ہنوز پوری طرح نافذ نہیں کیا گیا ۔ محفوظ علاقوں میں پولیس کے انتظام کے بارے میں اختلافات موجود ہیں ۔ مشرقی غوطہ دوسرا ایسا علاقہ ہے جہاں جنگ بندی نافذ ہوچکی ہے ۔ فوج نے بعض علاقوں میں جنگ بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ہفتہ کی دوپہر سے مشرقی غوطہ میں بھی جنگ بند ہوچکی ہے ۔ فوج کے بموجب اگر اس کے خلاف کسی قسم کا تشدد کیا جائے یا جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جائے تو جوابی کارروائی کی جائے گی ۔ روس نے کہا کہ چند گھنٹے قبل ایک معاہدہ پر اعتدال پسند شامی باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات میں جو قاہرہ میں منعقد ہوئے تھے جنگ بندی کیلئے اتفاق رائے ہوچکا ہے اور مشرقی غوطہ کو پُرامن خطہ قرار دیا گیا ہے ۔

لیکن باغی گروپس نے کہا کہ اس نے قاہرہ میں ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں لیکن اس معاہدہ میں باغیوں کا بااثر گروپ شامل نہیں ہے ۔ قاہرہ کے اجلاس کے بعد جنگ بندی معاہدہ جنوبی شام کیلئے ہوچکا ہے جس پر 9جولائی کو قبضہ کیا گیا تھا ۔ فیلاق الرحمن کے ترجمان وائل الوان نے کہا کہ شام کے جنوبی علاقوں کیلئے جنگ بندی ثالثی روس ‘ امریکہ اور اردن نے کی ہے ۔ روس کا کہنا ہے کہ باغیوں نے جنگ بندی معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اور اتفاق کیا ہے کہ سرحدی علاقوں کو کشیدگی سے پاک رکھا جائے گا ۔ انہیں تعینات کے مقامات قرار دیا گیا ہے اور فوج کشیدگی میں کمی کی نگرانی کررہی ہے ۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ سب سے پہلے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی قافلے روانہ کرنا چاہتا ہے اور آ:ندہ چند دن تک زخمیوں کا تخلیہ کروایا جائے گا ۔ دیگر دو علاقوں کو بھی کشیدگی سے پاک علاقے قرار دیا گیا ہے جو ادلیب اور وسطی صوبہ حمص کے شمالی علاقے ہیں ۔ 25لاکھ سے زیادہ افراد سمجھا جاتا ہے کہ ان چار علاقوں میں مقیم ہیں ۔ تاہم روس ‘ ترکی اور ایران جون میں ملاقات کرنے سے قاصر رہے تاکہ محفوظ علاقوں میں مقیم افراد کے مقد ر کا فیصلہ کیا جاسکے ۔

 

TOPPOPULARRECENT