Thursday , May 24 2018
Home / Top Stories / شام میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری، 100 شہری جاں بحق

شام میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری، 100 شہری جاں بحق

روس اور شامی افواج کی مشترکہ کارروائی سے 300 سے زائد زخمی، دواخانوں میں خدمات مفلوج

اربین ۔21 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) شام کے علاقہ مشرقی غوطہ میں حکومتی فورسس کی جانب سے کی گئی بدترین بمباری سے 20 بچوں سمیت 100 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ شام کے علاقہ مشرقی غوطہ میں حکومتی فورسس کی جانب سے کی گئی بدترین بمباری سے 20 بچوں سمیت 100 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ منگل کو شام میں موجود انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ مشرقی غوطہ میں شامی فورسس کے فضائی اور زمینی حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شامی فورسس نے مشرقی غوطہ میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ جنگجوئوں، باغیوں کے زیر کنٹرول ہے، بدترین بمباری کے بعد علاقے میں ہر طرف تباہی کے مناظر تھے جبکہ بمباری سے 20سے زائد بچے بھی جاں بحق ہوئے۔ جن کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 بہن بھی ہیں جن کی لاشیں دیکھ کر غمزدہ باپ اپنا سر پیٹنے لگا۔ مرنے والے بچوں کے اہل خانہ اور والدین کی حالت ایک جیسی تھی۔ ایک اور نومولود بچے کے والد بے اختیار رو پرے جب انہوں نے اپنے نومولود کی لاش پر پڑی چادر خون سے تر دیکھی۔ شام کی 7 سال سے جاری پیچیدہ جنگ میں آج ایک بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ دمشق نے شمالی افریقی خطہ میں موافق حکومت فاکٹرس کو ادا نہ کیا ہے جہاں ان افواج کو ترکی کی فوج کی فائرنگ کا سامنا ہے۔ یہ فورسس کردش زیر کنٹرول علاقہ میں حملہ کررہی ہے۔ دمشق کے مضافات میں فضائی بمباری مارکٹوں اور آرٹیلری فائرنگ کی گئی۔ اتوار کے دن سے لڑائی چھری ہوئی ہے تب سے اب تک کم از کم 250 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ مسلسل دوسرے دن بھی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا پیر کے دن بھی شہری علاقوں میں حملے کئے 127 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کی وجہ سے کئی دواخانوں میں خدمات مفولج ہوگئی ہیں۔

اربین ہاسپٹل میں آج دوسرے دن بھی مریضوں کا علاج نہیں ہوسکا۔ مبصرین نے ان حملوں کے لیے روسی جنگی طیاروں کو ذمہ دار ٹھہرایاہ ے جو شہری علاقوں میں بم برسارہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پیر اور منگل کے حملے میں کم از کم چھ اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان ریال لیبلانک نے کہا، “شہریوں،اسپتالوں اور اسکولوں کے خلاف مسلسل تشدد کی ہم مکمل طور مذمت کرتے ہیں۔ انسانی قانون کا یہ انتہائی خلاف ورزی ہے ۔ ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ شام میں تشدد کی شدت کو کم کریں”۔مشرقی غوطہ سے آنے والے رپورٹوں کے شامی فوج نے تردید نہیں کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف جہاں سے حملے کئے گئے ہیں، وہاں اس نے درست حملے کئے ہیں۔ شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے اپوزیشن کے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنے ذرائع سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ بھاری اسلحے سے کیے جانے والے اس حملے میں کئی سو افرد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ شہر شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ہے ۔ شامی باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے شامی فوج مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔

TOPPOPULARRECENT