Wednesday , December 13 2017
Home / عرب دنیا / شام میں بری فوج اتارنے کے سعودی اعلان پر ایران بوکھلاہٹ کا شکار

شام میں بری فوج اتارنے کے سعودی اعلان پر ایران بوکھلاہٹ کا شکار

پاسدارانِ انقلاب کے لیڈر ریاض کے خلاف آگ بگولہ
ریاض۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شام میں شدت پسند گروپ ’’داعش‘‘ کے خلاف بری فوج اتارنے کے سعودی اعلان پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے جس میں ریاض کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے اس اعلان کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈروں میں پایا جانے والا خوف تہران کی بوکھلاہٹ کا نمایاں ثبوت ہے۔ گذشتہ جمعرات کو جب سعودی وزیردفاع کے مشیر جنرل احمد عسیری نے یہ اعلان کیا کہ ان کا ملک عالمی اتحادیوں سے مل کر شام میں اپنی فوج اتارنے کو تیار ہے تواس پر امریکہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا، مگر ایران اور اس کے روایتی حلیفوں کو جنرل عسیری کا بیان سخت ناگوار گذرا ہے۔سعودی عرب کے اعلان کے ردعمل میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران شام میں صدر اسد کی حمایت میں فوج اور شیعہ ملیشیا کی تعداد میں اضافہ نہیں کرے گا۔پاسداران انقلاب کے ایک دوسرے لیڈر حسین سلامی نے سعودی عرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “ریاض شام میں مداخلت کی غلطی سے باز رہے۔ اگر سعودی عرب شام میں اپنی فوج اتارتا ہے تو اس کے نتیجے میں پورے خطے جنگ کی آگ بھڑک اٹھے گی”۔ایرانی گارڈین کونسل کے سیکرٹری جنرل اور سابق ایرانی آرمی چیف محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ “سعودی عرب کا شام میں فوجیں داخل کرنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک نئی آگ بھڑک اٹھے گی جو سعودی عرب کے ساتھ ایران کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے”۔مسٹر رضائی نے اپنے “انسٹا گرام” کے صفحہ پر لکھا کہ شام میں فوجی مداخلت کے نتیجے میں سعودی عرب اور ترکی کا روس کیساتھ بھی تصادم ہو سکتا ہے اور اگر امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑتا ہے تو خطے کی سب سے بڑی جنگ چھڑ جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT