Friday , August 17 2018
Home / دنیا / شام میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا

شام میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا

امریکہ اور روس کا اتفاق ۔ ویتنام میں پوٹن اور ٹرمپ کی مختصر ملاقات ۔ مشترکہ بیان کی اجرائی
دنانگ ( ویتنام ) 11 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور روس نے ایک صدارتی مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا ۔ روسی قصر صدارت کریملن سے جاری ایک بیان میں یہ بات بتائی گئی جبکہ دونوں قائدین ٹرمپ اور پوٹن کی ویتنام میں ایک علاقائی کانفرنس کے موقع پر مختصر سی ملاقات ہوئی تھی ۔ ویتنام کے شہر دنانگ میں APEC چوٹی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آ رہا ہے ۔ کئی دن سے امریکہ اور روس دونوں ممالک میں یہ قیاس آرائیاں چل رہی تھیں کہ ٹرمپ اور پوٹن اس کانفرنس کے موقع پر ایک دوسرے سے ملاقات کرینگے ۔ کہا گیا ہے کہ دونوں قائدین کے مابین اس کانفرنس کے دوران تین مرتبہ خوشگوار انداز میں مصافحہ ہوا اور انہوں نے مختصر سی بات چیت کی لیکن دونوں کے مابین وفود کی سطح پر علیحدہ بات چیت نہیں ہوئی ہے ۔ کریملین نے اپنی ویب سائیٹ پر ایک بیان پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صدور نے شام میں پیشرفت کا جائزہ لیا ہے جہاں گذشتہ چھ سال سے خانہ جنگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ امریکہ اور روس نے شام کے خون آشام تنازعہ میں مختلف گروپس کی تائید کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور دونوں کے مابین مستقبل کے اقدامات پر اتفاق رائے بھی مشکل ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں صدور نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شام میں جاری تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہوسکتا ۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے آئی ایس آئی ایس کو شکست دینے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے شام کے مسئلہ پر آپس میں ہونے والے کسی امکانی ٹکراؤ کو ٹالنے کیلئے فوجی چینلس ( رابطوں کیلئے ) برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ ان ممالک نے شام میں متحارب گروپس سے اپیل کی ہے کہ وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی قیادت میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لیں۔ کریملین کی ویب سائیٹ پر بیان پیش کئے جانے سے ٹرمپ کے ساتھ سفر کر رہے صحافیوں کیلئے حیرت کی صورتحال پیدا ہوگئی کیونکہ اس پر وائیٹ ہاوز نے فوری کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ روس کی جانب سے 2015 سے شام کی خانہ جنگی میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ روس نے شام میں بشارالاسد کی حمایت کی ہے جو باغیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ بشارالاسد کے کچھ مخالفین کو امریکہ کی تائید بھی حاصل ہے اور روس کی کارروائیوں سے بشارالاسد کو یہاں تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ روس کی فوج نے حال ہی میں امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ عراق میں آئی ایس سے مقابلہ کا صرف دکھاوا کر رہا ہے اور مشرقی شام میں روس کی تائید والی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے ۔ تاہم کریملین نے آج جو مشترکہ بیان جاری کیا ہے اس میں شام میں امریکہ اور روس کی افواج کی جانب سے تشدد پر قابو پانے کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے ۔ پوٹن اور ٹرمپ کے مابین آخری مرتبہ وفود کی سطح پر بات چیت G20 چوٹی کانفرنس کے دوران جاریہ سال کے اوائل میں ہوئی تھی اور یہ قیاس آرائیاں شدت سے جاری تھیں کہ آیا وہ دنانگ میں ہونے والی کانفرنس میں بھی بات چیت کرینگے یا نہیں۔ تاہم امریکہ نے اس بات چیت سے ممکنہ حد تک گریز کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ٹرمپ کو امریکہ میں مشکلات پیش آسکتی تھیں ۔ امریکہ میں یہ الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں روس نے اہم رول ادا کیا تھا اور ٹرمپ کے کچھ حامیوں کو اس الزام پر امریکہ میں تحقیقات کا بھی سامنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT