Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / شام میں داعش کے خلاف امریکہ و عرب ممالک کے مشترکہ حملے

شام میں داعش کے خلاف امریکہ و عرب ممالک کے مشترکہ حملے

دمشق 23 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور اس کے عرب حلیف ممالک نے شام میں آج آئی ایس آئی ایس کے خلاف خطرناک اور ہاکت خیز بم اور میزائیل حملے کئے ۔ داعش کے خلاف ان ممالک نے ایک نیا محاذ جنگ کھولا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان فضائی حملوں میں داعش اور القاعدہ کے درجنوں عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ان تخریب کاروں کو

دمشق 23 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور اس کے عرب حلیف ممالک نے شام میں آج آئی ایس آئی ایس کے خلاف خطرناک اور ہاکت خیز بم اور میزائیل حملے کئے ۔ داعش کے خلاف ان ممالک نے ایک نیا محاذ جنگ کھولا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان فضائی حملوں میں داعش اور القاعدہ کے درجنوں عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں ۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ان تخریب کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو مغربی ملکوں کے خلاف یقینی حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت ہوئے ان حملوں میں بحرین ‘ اردن ‘ سعودی عرب ‘ قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی حصہ لیا ہے ۔ حملوں میں لڑکا طیاروں کے علاوہ بمبار ‘ ڈرون طیاروں کے علاوہ ٹام ہاک میزائیلس بھی استعمال کئے گئے ۔ یہ حملے امیرکی بحری جہاز سے کئے گئے ۔ یہ حملے دولت اسلامیہ عراق و شام کے خلاف جنگ میں ایک نیا موڑ لے آئے ہیں۔ اس گروپ نے شام اور عراق میں وسیع علاقووں پر قبضہ کرلیا ہے

اور انہوں نے وہاں اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کردیا تھا ۔ ان حملوں میں عرب ممالک کی شمولیت بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ امریکہ اب تک شام میں جاری خانہ جنگی میں کسی طرح کی مداخلت سے پس و پیش کرتا رہا ہے تاہم اب اس نے داعش کے نام پر یہاں فضائی حملے شروع کردئے ہیں کیونکہ یہاں داعش نے ویسع علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور امریکہ کا الزام ہے کہ اس گروپ نے تین مغربی یرغمالوں کے سر قلم کردئے ہیں۔ شام کے صدر بشار الاسد نے ان حملوں کے تعلق سے ابتداء میں خاموش رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان حملوں کے تعلق سے اسے قبل از وقت اطلاع دیدی گئی تھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس گروپ کے خلاف کسی بھی بین الاقوامی کوشش کی حمایت کرتا ہے ۔ پنٹگان کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجہ میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانے یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں نقصان پہونچا ہے ۔ اس کے علاوہ ان حملوں میں اس کے ٹریننگ کمپاؤنڈز ‘ کمان مراکز اور مسلح گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔

یہ حملے زیادہ تر عراق یس ملنے والی سرحد کے قریب رقہ میں کئے گئے جو اس گروپ کا طاقتور گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ رقہ میں مخالف حکومت کارکن ابو یوسف کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد دولت اسلامیہ نے اپنے لڑاکوں کو دوبارہ متعین کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا بہت زیادہ اثر ہوا ہے ۔ اس کا ادعا ہے کہ اب دولت اسلامیہ کے کارکن خود کو بچانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ شام میں حقوق انسانی کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد کئی شہری اپنے گھروں سے فرار ہوگئے ہیں ۔ جو عام شہری دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کے قریب رہتے تھے وہ فرار ہو رہے ہیں۔ ڈائرکٹر رمی عبدالرحمن نے یہ بات بتائی ۔ اس سے قبل بھی ہزاروں شہری شمالی شام میں داعش کے حملوں کی وجہ سے ترکی کو فرار ہوگئے تھے ۔اس دوران واشنگٹن سے موصولہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کہا کہ داعش کے خلاف فضائی حملوں میں عرب ممالک کی شمولیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس تخریب کار گروپ کے خلاف کارروائی میں امریکہ تنہا نہیں ہے ۔ اوباما نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل اخباری نمائندوں سے کہا کہ گذشتہ شب ان کے احکام پر امریکہ کی مسلح افواج نے شام میں آئی ایس کے ٹھکانوں پر حملے شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ہمارے دوست اور شراکت دار سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارات ‘ اردن ‘ بحرین اور قطر بھی شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہماری مشترکہ سکیوریٹی کے مسئلہ میں ان ممالک کے ساتھ ٹہرتے ہوئے امریکہ فخر محسوس کرتا ہے ۔ اوباما نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی امریکیوں پر واضح کردیا تھا کہ اس گروپ سے خطرات درپیش ہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے امریکہ کو ضروری کارروائی کرنی پڑیگی تاکہ وہ کہیں بھی پناہ حاصل نہ کرپائیں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ انہوں نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ وہ ایک اتحادی گروپ کے ساتھ کارروائی کرینگے اور اب ایسا کیا جارہا ہے ۔

حملے جا ری رہیں گے : امریکہ
اس دوران امریکہ کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں داعش کے خلاف جو حملے شروع کئے گئے ہیں وہ در اصل شروعات ہیں تاکہ اس گروپ کے خلاف طویل اور موثر کارروائی کرتے ہوئے اسے پوری طرح سے تباہ کردیا جائے ۔ لیفٹننٹ جنرل ولیم مے ولی ڈائرکٹر آپریشنس برائے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کے خلاف مزید حملے بھی کئے جاسکتے ہیں۔ امریکہ اور پانچ عرب ممالک کی جانب سے داعش کے خلاف شام میں یہ حملے شروع ہوئے ہیں۔ امریکی جنگی طیاروں نے آٹھ پروازیں کرتے ہوئے یہ کارروائی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ چونکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والا ایک خفیہ گروپ خراسان گروپ حملے کرنے کی تیاری کر رہا تھا اس لئے اسے بھی ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ امریکہ کے بموجب یہ گروپ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے مفادات کو نقصان پہونچانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا تھا ۔

شام میں حملے غیر قانونی : حسن روحانی
واشنگٹن 23 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کے صدر حسن روحانی نے آج کہا کہ امریکہ کی زیر قیادت شام میں جو فضائی حملے شروع ہوئے ہیں وہ غیر قانونی ہیں کیونکہ ان حملوں کی شام کی حکومت سے اجازت نہیں لی گئی ہے اور نہ ہی حکومت کا تعاون حاصل کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے پہلے دن کچھ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ ایران دولت اسلامیہ گروپ کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ گروپ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور وہ دہشت گرد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی سے مقابلہ میں تعاون کرنے تیار ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ امریکی پالیسی غیر واضح ہے کیونکہ وہ نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے بلکہ وہ خود شام کی حکومت کو بھی نظر انداز کر رہا ہے اور ان حملوں کیلئے شامی حکومت کی منظوری حاصل نہیں کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT