Thursday , April 26 2018
Home / Top Stories / شام میں دبابہ حملے سے 5کے بشمول7ترک فوجی ہلاک

شام میں دبابہ حملے سے 5کے بشمول7ترک فوجی ہلاک

IDLIB, FEB 4:-The scene shows, what according to Syrian rebels were fires caused by Russian military plane shot down by rebel forces near Idlib, Syria, reportedly on February 3, 2018. REUTERS-5R

900 کرد باغی جنگجؤ ہلاک کرنے ترکی کا ادعا ‘فرانس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش ‘ اردغان کا میکرون سے ربط
انقرہ۔4فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) 7 ترک سپاہی کرد نیم فوجی جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی جارحانہ کارروائی میں شام میں ہلاک ہوگئے ۔ ان میں وہ پانچ فوجی بھی شامل ہیں جو دبابے کے واحد حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ ترک فوج کے بموجب جانی نقصان ایک ہی دن میں سب سے زیادہ ہے ۔ ترک فوج نے 20جنوری کو شام کے کرد عوام تحفظ شعبوں کے خلاف انہیں دہشت گرد گروپس قرار دیتے ہوئے جارحانہ کارروائی شروع کر رکھی ہے ۔ کل کے دبابے حملے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا گیا جسے فوج کی جارحانہ کارروائی میں سب سے مہلک حملہ قرار دیا جاتا ہے ۔ تازہ ترین جھڑپوں سے ہلاک ہونے والے ترک فوجیوں کی تعداد 14ہوگئیں ۔ ترک فوج اور اس کی حلیف انقرہ کی تائید یافتہ شامی باغی افواج وائی پی جی کو مغربی سرحد سے ہٹادینا چاہتی ہے جو ان کا مستحکم گڑھ سمجھی جاتی ہے لیکن جارحانہ کارروائی میں تاحال ہولناک جھڑپیں دیکھی جارہی ہے ۔ فوج کے بموجب ان کے فوجیوں میں سے ایک جھڑپوں کے دوران اور دوسرا سرحدی علاقہ میں ہلاک ہوا ‘ تاہم فوج نے اس کی تفصیلات واضح نہیں کیں ۔ بعد میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک فوج کے دبابے پر حملہ کیا گیا تھا ۔ یہ ترک دبابوں پر دوسرا حملہ تھا اس حملہ میں پانچ فوجی جو دبابے کے اندر تھے ہلاک ہوگئے ۔ سابق بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک فوجی ہلاک اوردوسرا زخمی ہوا ہے ۔تاہم اب پانچ فوجیوں کی ہلاکت کی توثیق کردی گئی ہے ۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے ترکی کے جنگی طیاروں نے اس علاقہ پر حملے کئے جہاں سے ترک دبابے پر حملہ ہوا تھا ۔ ان علاقوں پر حملہ کیا گیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ یہیں سے دبابے پر حملہ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ان فضائی حملوں میں پناہ گاہیں اور اسلحہ کے ذخائر تباہ کردیئے گئے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے جمعرات کے دن کہا تھا کہ ترک فوج اور ترکی کی حمایت یافتہ باغی کارروائی میں تاحال 25ہلاکتوں کا سامنا کرچکے ہیں ۔ دریں اثناء ترکی کا کہنا ہے کہ سرحد پر حملوں سے 7شہری مارٹر حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریباً 900 وائی پی جی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اس تعداد کی آزادانہ ذرائع سے توثیق نہیں ہوسکی ۔ اردغان نے فرانس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایمانیول میکرون سے ربط پیدا کیا ہے ۔ جن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گرد عناصر کے خلاف فرانس کی ترکی کیلئے تائید حاصل کرنا تھا ۔ ترکی شام کی سرزمین پر نظر رکھ رہا ہے ۔ میکرون نے ترکی عہدیداروں پر الزام عائد کرتے ہوئے ایک اخبار کو انٹرویو میں گذشتہ ہفتہ کہا تھا کہ فرانس کو ترکی جارحانہ کارروائی پر اعتراض ہے ۔وہ اسے دراندازی سمجھتا ہے ۔ ہلاکتوں کے بارے میں صدر ترکی اور صدرفرانس دونوں نے اتفاق رائے ظاہر کیا کہ سفارت کاری کے طریقہ کار پر آئندہ ہفتوں میں شام کے ساتھ عمل کیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT