Sunday , September 23 2018
Home / عرب دنیا / شام میں زہریلی گیس کے حملوں کی مذمت،عالمی برادری سے سخت کارروائی کا مطالبہ

شام میں زہریلی گیس کے حملوں کی مذمت،عالمی برادری سے سخت کارروائی کا مطالبہ

ریاض ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل ریاض میں نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے شام کے وسطی صوبے حماہ میں اسدی حکومت کے شہریوں پر زہریلی گیس کے حملے کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے منگل کو دارالحکومت ریاض میں صحافیوں سے

ریاض ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل ریاض میں نیوزکانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے شام کے وسطی صوبے حماہ میں اسدی حکومت کے شہریوں پر زہریلی گیس کے حملے کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے منگل کو دارالحکومت ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اسد رجیم کی جانب سے حال ہی میں وسطی صوبے حماہ کے قصبے کفر زیتا میں شہریوں کے خلاف زہریلی گیسوں کے استعمال کی خطرناک اطلاعات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی ہیں”۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق باغیوں کے زیر قبضہ قصبے کفر زیتا پر اسدی فوج کی بمباری کے بعد اسپتال میں داخل ہونے والے شہریوں میں زہریلی گیسوں کے اثرات بھی پائے گئے ہیں۔اس علاقے سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے فیس بْک پر پوسٹ کی گئی تحریروں میں اسد رجیم پر شہریوں پر کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویڑن نے ایک نشریے میں دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو تنظیم النصر? محاذ نے اس قصبے پر تباہ کن حملے کے لیے کلورین گیس استعمال کی تھی۔درایں اثناء شامی روزنامے الوطن نے اپنی منگل کی اشاعت میں اطلاع دی ہے کہ پارلیمان کے اسپیکر محمد جہاد لہام آیندہ ہفتے ملک میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے باوجود جون میں نئے صدارتی انتخابات متوقع ہیں۔سعودی وزیرخارجہ نے اس اطلاع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”شامی رجیم کی جانب سے صدارتی انتخابات کے انعقاد کے اعلان سے جنیوا اول کانفرنس کے مطابق بحران کے پْرامن حل کے لیے عرب اور عالمی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی سمیت عالمی برادری نے بھی اسد حکومت کی جانب سے صدارتی انتخابات کے منصوبے پر تنقید کی ہے۔یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ان مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں بشارالاسد ایک مرتبہ پھر سات سال کی مدت کے لیے صدر منتخب ہوجائیں گے کیونکہ ملک میں جاری بحران کے پیش نظر وہی ریفرینڈم نما انتخاب میں تنہا مضبوط صدارتی امیدوار ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT