Tuesday , November 20 2018
Home / Top Stories / شام پر امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے تباہ کن فضائی حملے ، دمشق دہل گیا

شام پر امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے تباہ کن فضائی حملے ، دمشق دہل گیا

ہر طرف دھویں کے بادل ،سائنسی تحقیقی مرکز اور دیگر تنصیبات تباہ، ہزاروں شہری شامی پرچم کیساتھ سڑکوں پر نکل آئے ، کیمیائی اسلحہ کے استعمال پر بشارالاسد حکومت کو مغربی ملکوں کی سزا

دمشق ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت شام کی طرف سے اپنے ہی عوام پر کیمیائی اسلحہ کے مشتبہ حملوں کے جواب میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خلاف آج بڑے پیمانے پر بمباری کی جس کے نتیجہ میں دارالحکومت دمشق دہل گیا۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیمیائی حملوں کو ’’آدم خور کے جرائم‘‘ قرار دیا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ، روس کی وارننگ کو یکلخت نظرانداز کرتے ہوئے کی جانے والی اس کارروائی پر علان کے لئے جیسے ہی وائیٹ ہاؤز پہونچے، اُدھر شامی دارالحکومت دمشق میں تباہ کن دھماکوں کی خوفناک آوازیں سنائی دی جانے لگیں جس کے ساتھ ہی اس ملک میں گزشتہ سات سال سے جاری بہیمانہ خانہ جنگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا۔ دمشق میں اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے مقامی وقت کے مطابق رات کے پچھلے پہر 4 بجے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بمباری کے آغاز کے ساتھ ہی متواتر دھماکوں کی آواز سنی اور آسمان پر جنگی طیاروں کی پرواز کی آوازیں آرہی تھیں اور زمین سے دھویں کے بادل اُٹھ رہے تھے جس کے نتیجہ میں آسمان کا رنگ بدلا ہوا نظر آنے لگا، بالخصوص دمشق پر شمالی اور مشرقی علاقوں میں ہر طرف تباہی دیکھی گئی۔ طلوع کے باوجود دھویں کے سبب سارا شہر دوبارہ رات کی تاریکی میں چلا گیا، لیکن چند گھنٹوں میں شامی شہری ان حملوں سے خوفزدہ ہوئے بغیر قومی پرچم لہراتے ہوئے اہم سڑکوں پر نکل آئے۔ شامی ٹیلی ویژن نے خبر دی کہ ایک سائنسی تحقیقی مرکز امریکی فضائی حملوں کی زد میں آیا ہے اور شامی فضائی دفاعی نظام، دمشق کو نشانہ بنانے والی 10 راکٹوں کو تباہ کردیا۔

صبح کی اولین ساعتوں میں حملوں کے اختتام کے بعد شہر پر پھر ایک مرتبہ تاریکی طاری ہوگئی۔ اس دوران سرکاری و فوجی گاڑیاں، لاؤڈ اسپیکر لگاکر دمشق کی سڑکوں پر گشت کرنے لگیں، ان گاڑیوں سے قومی ترانے گونج رہے تھے۔ فضائی حملوں کے آغاز کے بعد صدر بشارالاسد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’نیک اور اچھی روحوں کی کبھی تحقیر نہیں ہوتی‘‘۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ان حملوں سے بین الاقوامی قوانین اور جواز کی تحقیر و توہین کی گئی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ تین حلیف (امریکہ، برطانیہ اور فرانس) نے شام کے صدر بشارالاسد کو کیمیائی اسلحہ کے مبینہ استعمال کی سزا دینے اور دوبارہ ایسا کرنے سے باز رکھنے کیلئے فوجی حملوں کا آغاز کیا ہے، تاہم شامی حکومت ممنوعہ اسلحہ کے استعمال کی متعدد مرتبہ تردید کی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے کہا کہ ابتدائی حملوں میں امریکہ کو کسی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فی الحال یہ ایک مرتبہ کا حملہ تھا‘‘، لیکن انہوں نے مستقبل میں مزید حملوں کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا ہے۔ میٹس نے کہا کہ ایسی متعدد تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جو کیمیائی اسلحہ کی تیاری میں اسد حکومت کی صلاحیتوں میں اضافہ میں مدد کررہے تھے۔ برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ ان فضائی حملوں کے موثر ہونے کے مختلف پہلوؤں کا ہنوز تجزیہ کیا جارہا ہے لیکن ابتدائی اشارے یہ ہیں کہ اسٹارم شیڈو اسلحہ اور اہداف کی موثر منصوبہ ہندی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا کہ یہ حملے نہ تو شامی خانہ جنگی میں مغربی ممالک کی مداخلت ہیں اور نہ ہی (بشارالاسد) حکومت کی تبدیلی کیلئے کئے گئے ہیں بلکہ یہ منتخب اہداف پر محدود کارروائی تھی جس سے اس علاقہ کی کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ فوجی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا کہ صوبہ حمص اور شہر دمشق کے قریب اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک سائنسی تحقیقی مرکز، ذخیرہ کے مقامات اور کمانڈ پوسٹ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ زمین سے فضاء میں وار کرنے والے شامی میزائل نے جوابی فائرنگ کی کوشش کی لیکن امریکہ یا ان کے اتحادیوں کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ شامی وزارت خارجہ نے حملوں کو ’’بربریت انگیزجارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

TOPPOPULARRECENT