Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / شام پر حملوںمیںشرکت کی تحریک میں شدت

شام پر حملوںمیںشرکت کی تحریک میں شدت

برطانیہ اور اسپین میں ہزاروں افرادکی تحریک کے خلاف احتجاج میں شرکت
لندن۔29نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) لندن میں آج پانچ ہزار افراد نے شام پر برطانوی فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کیا جب کہ سیاسی سطح پر دولت اسلامیہ کے جہادیوں سے جنگ کرنے کی تحریک میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے جمعہ کے دن برطانوی جٹ لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کے لئے ایک لائحہ عمل پیش کیاتھا ۔ پہلے ہی سے عراق میں دولت اسلامیہ کے اڈوں پر فضائی بمباری کی جارہی ہے ۔ برطانیہ ‘ فرانس اور امریکہ کے ساتھ دولت اسلامیہ کے مستحکم مقامات پر شام میں فضائی حملے کرنے کی مہم میں شامل ہونے جارہا ہے ۔ برطانیہ کے  افغانستان میں مداخلت کے زخم ابھی ہرے ہیں ۔ اس کے علاوہ عراق میں مداخلت میں شامل ہوکر بھی اس کو شدید زخم برھتے ہیں ۔ اس کے باوجود برطانیہ نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیاہے جس پر برطانیہ میں لاکھوں افراد نے لندن کی سڑکوں پر احتجاج کیا ۔2003ء میں بھی ایسا ہی احتجاج ہوا تھا ۔ وسطی لندن میں آج ہزاروں افراد نے پلے کارڈس تھام کر جلوس نکالا جن پر تحریر تھا ’’ جلتی پر تیل مت چھڑکو‘‘ ڈیوڈ کیمرون نے شام میں حملوں کی تجاوز پیش کردی ہیں ۔

احتجاجیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کوششوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ‘ جب کہ ڈیوڈ کیمرون کا دعویٰ ہے کہ اس سے دولت اسلامیہ کمزور ہوجائے گی لیکن احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ اس سے خانہ جنگی میں شدت پیدا ہوجائے گی ۔ شامی عوام کے مصائب میں اضافہ ہوگا ۔ علاوہ ازیں دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد کو چاہیئے کہ یہ تحریک روک دیں ۔ برطانوی پارلیمنٹ نے شام پر بمباری کے بارے میں قرارداد پر رائے دہی آئندہ ہفتہ متوقع ہے ۔ کئی سابق سیاستداں اس بارے میں بے دلی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔حالانکہ پیرس پر حملوں کے بعد انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کرلیا تھا ۔ پانچ ہزار افراد نے اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ میں شام میں فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا ۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ اس سے عسکریت پسند اسپین کو بھی اپنے حملے کا نشانہ بناسکتے ہیں ۔ قبل ازیں القاعدہ کی تحریک پر بم برداروں نے خود کو زیرزمین مسافر ٹرینوں میں 2004ء میں دھماکہ سے اُڑا دیا تھا جس سے 191افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اسپین کے کئی شہریوں کا خیال ہے کہ ردعمل کے طور پر ایسا حملہ دوبارہ ہوسکتا ہے ۔ سابق حملہ عراق جنگ میں شمولیت کا ردعمل تھا ۔ دولت اسلامیہ کے فائرنگ اور بم حملوں کے نتیجہ میں 13نومبر کو 130افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ فرانسیسی قائدین نے حالیہ دنوں میں اتحاد میں شامل ممالک کو اطلاع دی ہے کہ  ہے کہ فرانس جہادی گروپ کے خلاف اپنی کارروائی میں شدت پیدا کرنے کا خواہشمند ہے

Top Stories

TOPPOPULARRECENT