Tuesday , April 24 2018
Home / Top Stories / شام پر حملے بہیمانہ جارحیت ‘ مغربی ممالک ناکام ہونگے

شام پر حملے بہیمانہ جارحیت ‘ مغربی ممالک ناکام ہونگے

شامی وزارت خارجہ کا رد عمل ۔ کئی میزائیل ناکام بنادئے گئے ‘ روس کا دعوی ۔ ترکی اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کا خیر مقدم

ٹرمپ ‘ میکران ‘ مے مجرم : خامنہ ای

دمشق 14 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) شامی حکومت نے اپنی فوجی تنصیبات پر مغربی ممالک کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ بہیمانہ جارحیت ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ امریکہ ‘ فرانس اور برطانیہ نے ہفتہ کی صبح میں شام میں مختلف مقامات پر کئی فضائی حملے کئے ہیں۔ یہ حملے دارالحکومت دمشق اور مرکزی شہر ہومس اور اس کے اطراف میں کئے گئے ہیں۔ شامی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ شامی عرب جمہوریہ انتہائی شدید الفاظ میںامریکہ ۔ برطانیہ اور فرانس کی بہیمانہ جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور ان حملو سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ شامی وقت کے مطابق صبح چار بجے کئی مقامات پر حملے ہوئے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے بعد یہاں ہوائی جہاڑ اڑتے ہوئے دکھائی دئے ۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان حملوں کی اطلاع دی ہے تاہم یہ بھی کہا کہ یہ حملے ناکام ہوجائیں گے ۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے سے یہ دعوے کئے جا رہے تھے کہ شامی حکومت نے دمشق کے باہر اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقوں پر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملے کئے ہیں جن میں 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مغڑبی طاقتوں نے ان حملوں کیلئے صدر بشارالاسد کو ذمہ دار قرار دیا تھا تاہم شام اور اس کے حلیف روس نے ان دعووں کی تردید کی تھی اور یہ ادعا کیا تھا کہ مغربی دنیا ایک فرضی واقعہ کو پیش کر رہی ہے تاکہ فوجی کارروائی کا جواز پیدا ہوسکے ۔ شامی وزارت خارجہ نے کہا کہ مغڑبی ممالک کے حملے ان کی کوششوں میں روک لگانے کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔ وزارت نے کہا کہ حملے ایسے وقت کئے گئے ہیں جب کیمیاوی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کی جانب سے معائنے کئے جانے تھے تاکہ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کی تحقیقات کی جاسکیں۔ مغربی ممالک ان تحقیقات کو روکنا چاہتے ہیں۔ وزارت نے کہا کہ یہ حملے در اصل مغربی ممالک کے جھوٹ کا پردہ فاش ہونے سے روکنے کئے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ‘ برطانیہ اور فرانس نے تقریبا 110 میزائیل حملے کئے ہیں لیکن ائر ڈیفنس نے کئی میزائیلوں کو ناکام بھی بنادیا ہے ۔

کہا گیا ہے کہ ہومس پر کئے گئے حملوں میں تین عام شہری زخمی ہوئے ہیں تاہم دمشق میں حملوں سے ہوئے نقصانات کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے ۔ شام کے حلیف ایک لبنانی گروپ حزب اللہ نے امریکہ اور اس کے حواریوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ امریکہ سارے علاقہ اور علاقہ کے عوام کے خلاف جنگ کر رہا ہے لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا ۔ علاوہ ازیں روس نے کہا کہ شام پر زائد از 100 میزائیل داغے گئے ہیں لیکن خاطر خواہ تعداد کو روک دیا گیا ہے ۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فضا سے زمین پر وار کرنے والے سو سے زائد میزائیل داغے گئے ہیں اور انہیں فوجی و عام شہریوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے داغا گیا ہے ۔ شامی ائر ڈیفنس نے کچھ میزائیلوں کو ناکام بنادیا ہے ۔ اس دوران اسرائیل نے امریکی زیر قیادت فضائی حملوںکی مدافعت کی ہے اور کہا کہ بشارالاسد حکومت کی قاتلانہ کارروائیوں کا یہی جواب ہوسکتا ہے ۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی خواہش کے ساتھ بتایا کہ گذشتہ سال صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال حد سے تجاوز کے مترادف ہوگا اور شامی حکومت نے پھر ایسا کیا ہے ۔ اب امریکہ کی قیادت میں تین ممالک نے حملے کئے ہیں جو شام کی قاتلانہ کارروائیوں کا مناسب جواب ہے ۔ علاوہ ازیں ترکی نے بھی ان حملوں کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ یہ بروقت کی گئی کارروائی ہے ۔ ترکی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہیں جو ڈوما میں کئے گئے غیر انسانی حملے کا جواب ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت گذشتہ سات سال سے اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور اس کی کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ وہ انسانیت کے خلاف اور جنگی جرائم کا ریکارڈ رکھتی ہے ۔ اس دوران ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ‘ فرانس کے ایمانیول میکران اور برطانیہ کی تھریسا مئے پر تنقید کی ہے اور ان تینوں کو مجرمین قرار دیا ہے ۔ خامنہ ای نے شام پر حملوں کے اپنے رد عمل میں کہا کہ شام پر کئے گئے حملے ایک جرم ہیں۔ امریکی صدر ‘ فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیر اعظم اس کی مجرم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT