Friday , December 15 2017
Home / دنیا / شام پر روسی فضائی حملوں میں شدت، آبدوز سے بمباری

شام پر روسی فضائی حملوں میں شدت، آبدوز سے بمباری

اپوزیشن سے مذاکرات سے قبل کارروائی، داعش ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ماسکو ۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) روس نے شام میں اپنی بمباری مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بحرہ روم میں واقع اپنے آبدوز سے اس جنگ شدہ ملک کے کئی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیا۔ یہ فضائی حملے اس وقت کئے گئے جب شام کے منتشر باغی گروپس سعودی عرب کے زیراہتمام آج سے ریاض میں دشوارگذار مذاکرات کا آغاز کررہے ہیں، جس کا مقصد اس ملک میں کئی سال سے جاری تصادم کے خاتمہ کیلئے صدر بشارالاسد سے امکانی بات چیت کیلئے متحدہ محاذ تیار کرنا ہے۔ روسی وزیردفاع سرگئی شوئیگو نے کہا کہ ماسکو کے تازہ ترین حملوں نے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا اور گذشتہ تین دن کی کارروائی کے علاوہ گذشتہ ماہ ترکی کی طرف سے مار گرائے گئے روسی طیارہ کے بلیک باکس کی تلاش میں شام کے خصوصی افواج کی مدد کی۔ شوئیگو نے صدر ولادیمیر پوٹن سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’ہم نے بحرہ روم میں تعینات روسو ۔ ان ۔ ڈان آبدوز سے کیلیبر کروز میزائیل کا استعمال کیا۔ شوئیگو نے مزید کہا کہ ’’فضائی اور آبدوز بیڑہ سے کامیاب حملوں کے نتیجہ میں تمام منتخب اہداف تباہ کردیئے گئے۔ تیل کی تنصیبات، اسلحہ و گولہ بارود کے گودام اور بارودی سرنگ بنانے کی فیکٹری ان حملوں کا نشانہ بنی ہے۔

روس نے 30 ستمبر کو شام پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن مغربی ممالک نے ماسکو پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اعتدال پسند باغیوں کو نشانہ بناتے ہوئے صدر بشارالاسد کے اقتدار کو مضبوط بنا رہا ہے۔ واضح رہے کہ مصر کے شورش زدہ جزیرہ نما سنائی میں اکٹوبر کے دوران ایک روسی طیارہ کی تباہی اور اس کے 224 مسافروں کی ہلاکت کی داعش کی طرف سے ذمہ داری قبول کئے جانے کے بعد روس نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں زبردست اضافہ کیا تھا۔ ابتداء میں بحرقزوین میں لنگرانداز جنگی جہازوں سے راکٹ داغنے کے بعد اب بحرہ روم سے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ روسی وزارت دفاع نے کہا ہیکہ شام میں ہفتہ سے فضائی حملوں میں شدت پیدا کی گئی ہے اور چار دن کے دوران 1,920 بم برسائے گئے۔ پوٹن نے منگل کو کہا تھا کہ آبدوز سے داغے گئے کیلیبر مزائیلس نیوکلیئر وارہیڈس سے کہیں کئے جاسکتے ہیں لیکن کہاکہ وہ امید کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ان (نیوکلیئر وارہیڈس) کی ضرورت نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT