Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / شام پر سلامتی کونسل میں اجلاس ۔ امریکہ ، روس میں لفظی جھڑپ

شام پر سلامتی کونسل میں اجلاس ۔ امریکہ ، روس میں لفظی جھڑپ

روسی حکومت کے ہاتھ شامی بچوں کے خون سے رنگے ہیں ، امریکہ کا الزام ۔ تحقیقات کے بغیر نتائج اخذ کرنا غلط ، روس کا موقف
اقوام متحدہ ۔ 10اپریل ۔( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ اور روس میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں لفظی جھڑپ ہوئی جو شام میں عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق مباحث کے دوران ہوئی۔ واشنگٹن کا کہنا رہا کہ روسی حکومت کے ہاتھ شامی بچوں کے خون سے رنگے ہیں اور ماسکو نے اس طرح کے حملے کی اطلاعات کو فرضی قرار دیا۔ شام کے علاقہ دوما میں عام شہریوں کے خلاف کیمیائی اسلحہ کے حملوں سے متعلق دعوؤں کے پیش نظر ایمرجنسی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں سلامتی کونسل کے ارکان اور عہدیداران دونوں نے شرکاء کو بریفنگ دی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف شام بلکہ عمومی طورپر دنیا بھر کے لئے حد درجہ سنگین نوعیت کے حامل ہیں۔ ان حملوں کی اطلاعات پر عالمی طاقتوں کے درمیان بیان بازی کے ذریعہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور سردجنگ کے خاتمہ کے بعد سے پہلی مرتبہ حالات اس قدر شدید نوعیت کے ہوئے ہیں۔ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی نے کہاکہ وہ سلامتی کونسل کے لئے ہلاکتوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے متاثرین کی تصاویر پیش کرسکتی ہیں لیکن اصل نکتہ کیا رہے گا ؟ وہ خبیث جو ان حملوں کے لئے ذمہ دار ہے اُسے کچھ احساس نہیں اور وہ فوت ہونے والے بچوں کی تصاویر پر غمگین تک نہیں ۔ انھوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ روسی حکومت جس کے ہاتھ شامی بچوں کے خون سے رنگے ہیں ، وہ انسانی جانوں کے اتلاف پر شرمندہ تک نہیں ۔ ہم نے پہلے بھی ایسی حرکتوں کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمیں روس اور ایران کے رول کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے جو بشارالاسد حکومت کے گھناؤنے پہلو آشکار ہونے کے باوجود اُس کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی سفیر نے کہاکہ روس کی طرف سے رکاوٹیں ہمیں اس طرح کے حملوں کے اعادہ کو روکنے سے باز نہیں رکھ سکتی ۔ امریکہ نے عزم کر رکھا ہے کہ شامی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعہ قیامت مچانے والوں کوں کیفرکردار تک پہونچایا جائے ۔ امریکی سفیر نے متنبہ کیا کہ امریکہ ضرور عملی اقدام کرے گا اور یہ کہ اس ضمن میں اہم فیصلے زیرغور ہیں۔ روس کے اقوام متحدہ قاصد ویزلی نیبنزیا نے کہا کہ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ تحقیقات کئے بغیر ساری ذمہ داری روس اور ایران پر تھوپ دی جارہی ہے ۔ ہمیں پہلے اس پورے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے اور یہ کام دیانتداری سے ہونا چاہئے ۔ انھوں نے زور دیا کہ دوما میں سرین یا کلورین گیاس کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی اور اُن گوشوں کو مدعو کیا جو اس معاملے میں باضابطہ تحقیقات کے ذریعہ کوئی نتیجے پر پہونچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق ادارے کے ماہرین کو فوری دمشق پہونچنا چاہئے جہاں شامی حکام اور روسی دستے اور انھیںحقیقی صورتحال سے واقف کروائیں گے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ روز صوبہ ہومس میں فضائی اڈے پر حملوں کے تعلق سے بھی مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں ان کی بھی تصدیق کرنا باقی ہے ۔ اقوا م متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوتیرس نے اتوار کو دوما میں تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کیمیائی حملوں کی جانچ پر زور دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT