Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / شام پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ، اندرون دو ہفتے 800 ہلاکتیں

شام پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ، اندرون دو ہفتے 800 ہلاکتیں

اقوام متحدہ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شام کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کا ہنگامی اجلاس آج ہو گا ، مشرقی غوطہ میں تازہ حملوں کے دوران مزید 24شہری مارے گئے جبکہ دو ہفتوں کے دوران مرنے والے افراد کی تعداد 800سے تجاوز کرگئی۔اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں نے امریکہ اوراس کے اتحادی روس پر زور دیا ہے کہ وہ شام پر کیے جانے والے فضائی حملوں کی تحقیقات کریں کیونکہ ان حملوں کے نتیجے میں بے گناہ شہری مارے گئے تھے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔تفتیش کاروں کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں شام کے شہر حلب کی ایک مارکیٹ پر روسی فضائی حملے میں کم از کم 84 شہری مارے گئے تھے جبکہ امریکی اتحادی فوج کی جانب سے رقہ میں ایک اسکول میں بمباری کے نتیجے میں ڈیرھ سو افراد مارے گئے تھے ۔ اس اسکول میں بے گھر ہونے والے افراد پناہ لیے ہوئے تھے ۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ان جگہوں پر داعش کے شدت پسند موجود تھے ۔دوسری جانب گزشتہ روز بھی شام کے صوبے مشرقی غوطہ پر فضائی حملے جاری رہے ، انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق بمباری اور جھڑپوں کے دوران مزید 24شہری مارے گئے ہیں جس کے بعد گزشتہ دو ہفتوں میں مرنے والے افراد کی تعداد 805 ہوگئی ہے جن میں 178 بچے بھی شامل ہیں۔
حکومت شام کی مزید فوجیں غوطہ روانہ
حکومت شام نے اقوام متحدہ کی تنقید کی پرواہ کئے بغیر مشرقی غوطہ کیلئے مزید فوجیں روانہ کردیں۔ مشرقی غوطہ میں سرکاری فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عالمی ادارہ نے سخت تنقید کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ شام کی رصد گاہ برائے انسانی حقوق لندن نے کہا کہ کم از کم 700 افغان ، فلسطینی اور حکومت شام کے وفادار نیم فوجی جنگجو مشرقی غوطہ میں حملوں میں ملوث ہیں، لیکن روس کی تائید یافتہ حکومت شام نے تمام تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر مشرقی غوطہ کو مزید فوج روانہ کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT