Monday , August 20 2018
Home / دنیا / شام کی سنگین صورتحال پر ٹرمپ کا السیسی سے فون پر تبادلہ خیال

شام کی سنگین صورتحال پر ٹرمپ کا السیسی سے فون پر تبادلہ خیال

بشارالاسد حکومت کو روس اور ایران کی ’’غیرذمہ دارانہ‘‘ تائید وحمایت پر اظہار تشویش۔ انسانی بحران کے خاتمہ کا عہد

واشنگٹن ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اپنے مصری ہم منصب عبدالفتح السیسی کے ساتھ جنگ سے تباہ حال شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، وائیٹ ہاؤس نے یہ بات کہی۔ بتایا گیا کہ دونوں قائدین نے بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے بے قصور شہریوں پر سفاکانہ حملوں کو روس اور ایران کی ’’غیرذمہ دارانہ‘‘ تائید و حمایت پر فکرمندی اور تشویش ظاہر کی۔ وائیٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں قائدین نے فون پر بات چیت میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور امکانات تلاش کئے کہ سکریٹری اور معاشی مسائل کے بارے میں امریکہ۔ مصر شراکت داری کو بڑھانے کے مواقع کس طرح یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔ دونوں نے شام کے بحران کو ختم کرنے کیلئے مل جل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ شامی ادارہ برائے انسانی حقوق کے مطابق گذشتہ 15 یوم میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور سرکاری افواج کے ہاتھوں مشرقی غوطہ میں جہاں باغیوں کو محاصرہ بند کیا گیا ہے، وہاں فضائی حملوں، توپوں کے استعمال اور راکٹ حملوں کے ذریعہ زائد از 690 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکی و مصری قائدین نے روس اور ایران کی شام کے معاملہ میں بے قصور شہریوں کے خلاف ہلاکت خیز حملوں کے باوجود بشارالاسد کو غیرذمہ دارانہ تائید پر تنقید کی۔ ٹرمپ اور السیسی نے شام کے انسانی بحران کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کرنے اور اس خطہ میں عرب اتحاد وسلامتی کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔ قبل ازیں وائیٹ ہاؤس نے جاریہ ملٹری مہم کی مذمت کی جو اسد حکومت روس اور ایران کی تائید کے ساتھ مشرقی غوطہ کے عوام کے خلاف چلا رہی ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2401 کی منظوری میں بار بار تاخیر ہوئی ہے جس کے ذریعہ سارے شام میں 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ روس نے اس کے شرائط و قواعد کو نظرانداز کردیا اور شامی علاقوں میں بے قصور شہریوں کی ہلاکت انسداد دہشت گردی کی آڑ میں بدستور جاری ہے۔ وائیٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری سارہ سینڈرس نے کہا کہ یہی وہ جھوٹ باتوں اور اندھادھند قوت کے استعمال کی ترکیب ہے جو روس اور شامی حکومت کے گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں 2016ء میں قدیم شہر حلب کو تباہ و برباد کرچکی ہے جہاں ہزارہا عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ 24 اور 28 فروری کے درمیان روسی ملٹری طیارہ نے روزانہ کم از کم 20 مرتبہ دمشق اور مشرقی غوطہ کے علاقوں پر بمباری کی جہاں زبردست نقصان ہوا۔ اسد حکومت ماسکو اور تہران میں اپنے آقاؤں کی تائید و حمایت کے ساتھ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کوخاطر میں نہیں لارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT