Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / شام کے اسکول پر روسی حملہ، 12 بچے ہلاک

شام کے اسکول پر روسی حملہ، 12 بچے ہلاک

شام میں شہریوں پر حملے نہیں کئے گئے، روسی وزارت خارجہ کا بیان، فرانس کی روس پر تنقید
بیروت ۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کم از کم 12 بچے اور تین بالغ افراد روس کے فضائی حملہ میں جس کا نشانہ شام کے صوبہ حلب کا ایک اسکول تھا، ہلاک ہوگئے۔ شامی رسدگاہ برائے انسانی حقوق کے بموجب 3 بالغ افراد بشمول ایک قائد قصبہ انجارا میں زخمی بھی ہوگئے جبکہ کم از کم 20 بچے اور ایک ٹیچر بھی زخمی ہیں۔ نگرانکار ادارہ کے بموجب فضائی حملے زبردست تھے۔ حکومت کی فوج اور باغی افواج کے درمیان ہفتہ کے دن سے شمالی صوبہ میں جھڑپ جاری ہے جس پر اعتدال پسند اور اسلام پسند باغیوں کا ملاجلا قبضہ ہے۔ ذرائع ابلاغ کے کارکنوں نے صوبہ حلب میں تصویریں تقسیم کی ہیں جن میں دکھایا گیا ہیکہ ایک کلاس روم ملبہ کا ڈھیر ہوگیا اور ٹیسکوں کے بالائی چوبی حصہ دھاتی فریم سے اکھڑ گئے۔ برطانیہ میں قائم رسدگاہ کی اطلاع کے بموجب راکٹ حملہ سے شہر حلب میں تین بچے ہلاک ہوئے۔ سرکاری فوجیں شام کے مشرقی علاقہ میں باقاعدہ فضائی بمباری کررہی ہیں جبکہ باغیوں نے مغربی شام میں راکٹوں سے حملے کئے ہیں۔ ماسکو سے موصولہ اطلاع کے بموجب روس کی وزارت خارجہ نے آج کہا کہ شام میں بمباری کی مہم کا نشانہ شہری نہیں ہیں۔ نگرانکاروں کا کہنا ہیکہ تازہ روسی فضائی حملوں سے کم از کم 12 بچے اور 3 بڑے بشمول ایک ٹیچر ہلاک ہوگئے ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا وقارووا نے کہاکہ روس شہریوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کرتا۔ شام میں 2012ء کے وسط سے خانہ جنگی جاری ہے۔ صورتحال بڑی حد تک شہر کے اطراف کے دیہی علاقوں میں برعکس ہوچکی ہے۔ باغی حلب کے مغرب میں بیشتر علاقہ پر اور سرکاری افواج حلب کے مشرق میں بیشتر علاقہ پر قابض ہیں۔ دریں اثناء فرانس کے وزیرخارجہ لارینٹ فیبیوس نے آج کہاکہ آج کا فضائی حملہ شام کیلئے انتہائی ضروری تھا۔ روس کو چاہئے کہ اپنی فوجی کارروائیاں شہری آبادی کے خلاف روک دیں۔ انسانی حقوق گروپس اور شامی باغی روس پر شدید تنقید کررہے ہیں کیونکہ اس کی بمباری کی مہم سے بے قصور شہری ہلاک ہورہے ہیں۔ یہ بمباری صدر شام بشارالاسد کی درخواست پر 30 ستمبر شروع کی گئی ہے۔ روس کا دعویٰ ہیکہ وہ صرف دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر بمباری کررہا ہے، بے قصور شہریوں پر نہیں۔

TOPPOPULARRECENT