Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / شام کے حالات پر دہلی میں احتجاج کا سلسلہ جاری

شام کے حالات پر دہلی میں احتجاج کا سلسلہ جاری

نئی دہلی: شام کے حالتات کو لے کر ملک کے مختلف ریاستوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ملک کے راجدھانی دہلی میں بھی مسلسل مظاہرہ کئے جارہے ہیں ۔دہلی میں کناٹ پیلس پر سینکڑوں احتجاجی ہاتھوں میں پھول لئے خاموش مظاہرہ کر رہے تھے۔ا س مظاہرہ میں جہا ں ایک طرف انسان دوست افراد کو تقویت دینے کا کام کیا ہے وہیں دوسری جانب یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ ظلم خواہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں کیوں نہ ہو انسانیت کے علمبردار ہر جگہ ا سکے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔

مظاہرین اس بات کا مطالبہ کر رہے تھے کہ شام کے معصوم اور بے گناہ شہریوں پر کی جانے والی بم باری کو فوری روکا جائے او رانہیں دوائیں فراہم کئے جائیں ۔اور دیگر روری سامان کا بندوبست کیا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ آخر کس جرم کی سزا شامی بھگت رہے ہیں ۔احتجاجیوں میں سے ایک او ایس سلطان نا می نوجوان نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے قائم کئے جانے کے حق کو ادا کریں اور شام کے لئے ایک ٹریبونل قائم کریں ۔

تاکہ ان پر مظالم روکا جاسکے۔انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیاتھا کہ کوئی ظالم حکمراں کسی دوسرے پر زبردستی اپنی طاقت کا مظاہرہ نہ کریں ۔مگر افسوس کی بات ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے بچ رہا ہے۔انھوں نے مزیدکہا کہ آج کے اس احتجاج میں اتنے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔یہاں موجود پروفیسر اپورانند نے کہا کہ سب سے پہلے وہاں جنگ بندی کی جانی چاہئے۔

اور شہریوں کو طبی امداد فراہم کیا جانا چاہئے۔اور مجرمین کو سزا ملنی چاہئے۔کونسلر محمد اقبال نے کہا کہ ہم یہاں سیاست سے ہٹ کر آئیں ہیں ۔تاکہ ہم اپنا احتجاج درج کرواسکیں۔انھوں نے کہا کہ شام کے مظلومین کی قربانی رائیگا نہیں جائے گی۔

اور جلد ہی ان پر ظلم و ستم ڈھانے والے سامراجی ممالک کا بیڑہ غرق ہوگا اور ایک بار پھر شام کے لوگ پر امن اور محفوظ ماحول میں سانس لے سکیں گے۔اس احتجاج میں میناکشی، راجیش سنگھ، پرساد سنگھ، سلمان نظامی ، کے علاوہ یتیم خانے سے آئے سینکڑوں بچوں نے شرکت کی۔
گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا ضمنی انتخابات

TOPPOPULARRECENT