Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / شام کے شہر حلب سے جنگ بندی کے نئے معاہدہ کے بعد تخلیہ

شام کے شہر حلب سے جنگ بندی کے نئے معاہدہ کے بعد تخلیہ

حلب کی صورتحال پر فرانس کے ایفل ٹاور میں تاریکی، جنگ بندی کا پہلا معاہدہ منسوخ ، نئے معاہدہ پر عمل آوری
حلب ۔ 15ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شام میں باغیوں کے زیرقبضہ آخری مستحکم گڑھ حلب سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور شہریوں کے تخلیہ کا برسوں کی آمدنی کے بعد آغاز ہورہا ہے۔ صدر بشارالاسد کی افواج نے شام کے دوسرے بڑے شہر پر حکومت کا قبضہ بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حکومت شام کی گذشتہ 5 سال کی خانہ جنگی کے دوران سب سے بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔ تقریباً 12 خالی مکان اور کئی ایمبولینس گاڑیاں شہر کے جنوب کی سمت پیشرفت کررہی ہیں جہاں تخلیہ کرنے والوں کی آمد متوقع ہے جو ان گاڑیوں کے ذریعہ منتقل کئے جائیں گے۔ شام کے سرکاری ٹی وی کی خبر کے بموجب 4000 باغی اور ان کے خاندانوں کا اس منصوبہ کے تحت تخلیہ کروایا جائے گا۔ ان کے تخلیہ کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ توقع ہیکہ تخلیہ کی پہلی کارروائی کل صبح مقرر تھی لیکن ناکام ہوگئی۔ توپ خانہ کی فائرنگ کا اور فضائی حملوں کا علی الصبح تک سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے شہر دہل رہا تھا لیکن حکومت شام کی حلیف حکومت روس کی ثالثی سے اور اپوزیشن کی تائید کرنے والی حکومت ترکی کے تعاون سے تازہ بات چیت کے بعد تخلیہ کا دوبارہ آغاز ہونے والا ہے۔ دوسری وزارت دفاع نے کہا کہ شام کے عہدیداروں نے شہر کا تخلیہ کرنے والے باغیوں کے تحفظ کی ضمانت دی ہے اور تیقن دیا ہیکہ تخلیہ کی تیاریاں جاری ہیں۔ روس نے کہا کہ باغی شمال مغربی شامی شہر عدلیب کی سمت پسپا ہوں گے۔ یہ اپوزیشن کا ایک مستحکم گڑھ ہے۔

روس کی فوج نے کہا کہ وہ جاسوسی کیمروں اور ڈرون طیاروں کے ذریعہ اس کارروائی پر نظر رکھے گی۔ بین الاقوامی صلیب احمر سوسائٹی نے کہا کہ اس سے تخلیہ میں مدد دینے کی خواہش کی گئی ہے کیونکہ چند افراد زخمی ہیں۔ چنانچہ انہیں منتقل کرنے کیلئے 10 ایمبولینس گاڑیاں تقریباً 100 رضاکار اور حلال احمر کے ارکان عملہ روانہ کئے ہیں۔ یہ ٹیمیں حلب پہنچ چکی ہیں۔ شام میں آئی سی آر سی کے ترجمان این جی سیڈکی نے کہا کہ ٹیمیں یہاں پہنچ چکی ہیں۔ ایمبولینس گاڑیاں دوسری سمت پیشرفت کررہی ہے اور زخمیوں کے تخلیہ کے دوران ان کے ساتھ چل رہی ہیں۔ باغی عہدیداروں نے کہا کہ تخلیہ کرنے والے افراد ضلع الامیریا کے راستہ سے گذریں گے۔ بعدازاں حکومت کے زیرقبضہ راموسا جنوبی مضافاتی علاقہ سے گذرتے ہوئے تخلیہ کریں گے۔ قبل ازیں ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ احمد نے کہا کہ دیگر رضاکار زخمیوں کے تخلیہ میں مدد کررہے ہیں۔ زخمی شہری اور ان کے ارکان خاندان پہلے ہی الامیریا میں جمع ہوچکے ہیں۔ احمد نے کہا کہ سرکاری فوجوں کی ایمبولینس گاڑیوں پر فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں جن میں زخمیوں کو منتقل کا جارہا تھا۔ اس فائرنگ سے تین افراد بشمول سفید ہیلمٹ پوش سیول ڈیفنس تنظیم کے ارکان عملہ شامل ہیں۔ ایک زخمی کو ابتداء میں فوت ہوجانے کا شبہ کیا گیا تھا۔ بعدازاں صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔ دریں اثناء پیرس سے موصولہ اطلاع کے بموجب شہرہ آفاق ایفل ٹاور حلب کی صورتحال کی بناء پر روشنیوں سے سجایا نہیں گیا تاکہ شامی شہر حلب کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ یہ ایک تاریخی عمار ت آج شب 8 بجے سے تاریکی میں ڈوب گئی۔ یہ حلب کے شہریوں کیلئے ناقابل برداشت صورتحال کے خلاف احتجاج تھا جہاں دن بھر لڑائی جاری رہی۔ باغی افواج نے کل دیر گئے ایک نئے معاہدہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شہریوں کا حلب سے تخلیہ کیا جائے گا۔ اس اعلان کے پہلے ہی سرکاری طور پر ایفل ٹاور کی روشنیاں بجھا دی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT