Tuesday , September 25 2018
Home / عرب دنیا / شام کے شہر رقہ کے فوجی اڈے پر جہادیوں کا حملہ

شام کے شہر رقہ کے فوجی اڈے پر جہادیوں کا حملہ

بیروت 7 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) خلافت اسلامیہ کے جہادیوں نے شام کے شہر رقہ میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کرتے ہوئے اِس کے بعض حصوں پر قبضہ کرلیا۔ قبل ازیں ہولناک جنگ ہوئی جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ شام کی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم شامی رصدگاہ نے کہاکہ انتہا پسندوں کا ایک گروپ بریگیڈ 93 کے فوجیوں کے ساتھ گھمسان جنگ میں مصروف ہے۔

بیروت 7 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) خلافت اسلامیہ کے جہادیوں نے شام کے شہر رقہ میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کرتے ہوئے اِس کے بعض حصوں پر قبضہ کرلیا۔ قبل ازیں ہولناک جنگ ہوئی جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ شام کی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم شامی رصدگاہ نے کہاکہ انتہا پسندوں کا ایک گروپ بریگیڈ 93 کے فوجیوں کے ساتھ گھمسان جنگ میں مصروف ہے۔

شہر رقہ میں خلافت اسلامیہ پہلے ہی علاقائی دارالحکومت پر اور وسیع علاقوں پر قبضہ کرچکی ہے۔ تنظیم کے مبصر کے بموجب کم از کم 27 سرکاری فوجی اور 11 جہادی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اِن میں وہ تین افراد بھی شامل ہیں، جنھوں نے خود کو دھماکہ سے اُڑاتے ہوئے اِس جارحانہ حملے کا آغاز کیا تھا۔ فوجی اڈے کے باب الداخلہ پر کل رات دیر گئے اُنھوں نے خود کو دھماکہ سے اُڑاتے ہوئے جہادیوں کے حملے کی راہ ہموار کی تھی۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کے بموجب خلافت اسلامیہ کے جنگجو فوجی اڈے کے بیشتر علاقہ پر قابض ہوچکے ہیں۔ کئی سرکاری فوجی جن کا تعلق بریگیڈ 93 سے تھا، گزشتہ ماہ پسپا ہوچکے ہیں۔ جبکہ خلافت اسلامیہ نے ڈیویژن 17 کے فوجی اڈے پر گھمسان جنگ کے بعد قبضہ کرلیا تھا جس میں 85 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ آج کے جارحانہ حملہ میں خلافت اسلامیہ نے صوبہ رقہ کے تقریباً تمام علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔

صرف بریگیڈ 93 اور لباخہ فوجی ہوائی اڈہ اب بھی سرکاری فوج کے قبضہ میں ہے۔ ڈیویژن 17 پر دو روز طویل جارحانہ حملہ میں 50 سے زیادہ فوجی ہلاک کردیئے گئے۔ اِن میں سے چند کا سر قلم کردیا گیا۔ بعدازاں جہادیوں نے قلم کئے ہوئے سروں کی نمائش کی۔ خلافت عثمانیہ سب سے پہلے شام میں بہار عرب کے دوران اُبھر آئی تھی۔ اِس کے بعد سے اُس نے تقریباً پورے صوبہ رقہ پر اور عراق کی سرحد سے متصل علاقہ دیرالزور پر قبضہ کرلیا۔ جون میں اِس گروپ نے خلافت اسلامیہ شام و عراق ہونے کا دعویٰ کردیا۔ مغربی ممالک کی حمایت یافتہ بعض باغی چاہتے ہیں کہ صدر شام بشارالاسد کو اقتدار سے بیدخل کردیا جائے۔ اُنھوں نے خلافت اسلامیہ کو اپنے امکانی حلیف کی حیثیت سے اُس کا خیرمقدم کیا تھا لیکن انتہا پسندوں کے ایک گروپ کے استحصال اور غلبہ کی خواہش کی وجہ سے یہ باغی اُس کے خلاف ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT