Tuesday , September 25 2018
Home / عرب دنیا / شام کے متنازعہ انتخابات میں بشارالاسدکو زبردست اکثریت سے اپنی کامیابی کا یقین

شام کے متنازعہ انتخابات میں بشارالاسدکو زبردست اکثریت سے اپنی کامیابی کا یقین

دمشق ۔ 3 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شامی حکومت کے زیراقتدار علاقوں میں آج صدارتی انتخاب کیلئے رائے دہی متنازعہ بن گئی موجودہ صدر بشارالاسد کو اُمید ہے کہ وہ زبردست اکثریت کے ساتھ اپنی گرفت اقتدار پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں گے جبکہ جلاوطن اپوزیشن نے انتخابات کو ایک ’’ڈھونگ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔ بشارالاسد کو دو غیرمعروف حریف امیدواروں کا سامنا ہے اور انھیں توقع ہے کہ وہ زبردست اکثریت سے کامیاب رہیں گے ، اس کے باوجود کہ 3 سال سے جاری خانہ جنگی کے پیش نظر اقوام متحدہ نے انھیں انتباہ دیا ہے کہ ممکن ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد خانہ جنگی مزید طویل ہوجائے گی ۔ ملک کے تقریباً 60 فیصد علاقہ میں جو اسد حکومت کے دائرہ اقتدار سے باہر ہے رائے دہی نہیں ہوئی ، اس میں ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کا غالب علاقہ شامل ہے ۔ تیسرے شہر حمص کے قلب میں رائے دہی ہوئی

جبکہ یہ علاقہ باغی فوجیوں کے گزشتہ ماہ تخلیہ کے بعد سے کھنڈر بنا ہوا ہے ۔ دو سالہ محاصرہ کے بعد سرکاری فوج کا اس شہر پر قبضہ ہوگیا ہے ۔ بشارالاسد اور اُن کی برطانوی نژاد شریک حیات اسماء نے وسطی دمشق میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ سرکاری ٹی وی پر اُن کے ووٹنگ کی جھلکیاں دکھائی گئیں۔ دارالحکومت دمشق حکومت کے کنٹرول میں ہے ، وقفہ وقفہ سے مضافاتی علاقوں پر باغی بمباری کیا کرتے ہیں۔ شامی رسد گاہ برائے انسانی حقوق کی خبر کے بموجب مضافاتی علاقوں پر آج بھی فائرنگ کی گئی ۔ دمشق میں حالانکہ مراکز رائے دہی کی تصاویر لی گئی ہیں ۔ دمشق کی سڑکوں پر بشارالاسد کی ستائش کرتے ہوئے بڑے بڑے ہورڈنگس نصب کئے گئے ہیں، یہاں تک کہ مراکز رائے دہی کے اندر اُن کے دو حریف امیدواروں حسن النوری اور مہر الہاجر کی ہورڈنگس بھی نصب کی گئی ہیںجن کی تصویریں بھی لی گئی ہیںتاکہ سرکاری ٹی وی پر اُن کی نمائش کی جاسکے ۔ رائے دہندوں نے کہا کہ انھوں نے حریف امیدواروں کو ووٹ دیئے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT