Tuesday , December 11 2018

شام کے نفسیاتی دواخانہ پر مارٹر حملہ ، 14 مریض زخمی

زخمی مریض قریبی دواخانہ منتقل، چوٹی کانفرنس آفرین پر پانچ دن سے ترکی بمباری
آزاز (شام) ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شام کے شمالی علاقہ میں جس پر ترک حمایت یافتہ باغیوں کا قبضہ ہے، مارٹر فائرنگ کے کم از کم 14 افراد جو نفسیاتی دواخانہ میں زخمی ہوگئے۔ قصبہ آزاز پر ترکی سے سرحد پار مارٹر شلباری کی گئی۔ قبل ازیں ترکی نے ملحقہ کردوں کے زیراہتمام چوٹی کانفرنس پر جس کا نام ’’آفرین‘‘ رکھا گیا ہے، مسلسل پانچ دنوں سے بمباری جاری رکھی ہے اور فوجی دراندازی کی دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔ شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق برطانیہ نے کہا کہ مارٹر فائرنگ شام کی جمہوری افواج پر کی گئی۔ امریکی حمایت یافتہ اتحاد کرد تحفظاتی یونٹس پر غلبہ رکھتا ہے۔ رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے کہا کہ زخمیوں میں سے بیشتر مریض تھے۔ دواخانہ میں 100 مریض زیرعلاج ہیں۔ بیشتر صدمہ سے پیدا ہونے والی بیماری میں مبتلاء ہیں جو شام کی سات سال طویل خانہ جنگی کا نتیجہ ہے۔ نیم طبی عملہ نے زخمی مریضوں کو قریبی دواخانہ منتقل کردیا۔ ایک اخباری نمائندہ کی اطلاع کے بموجب ایک شخص کی کئی انگلیاں ضائع ہوگئی ہیں۔ مارٹر فائرنگ سے دواخانہ کی دو منزلہ دیوار منہدم ہوگئی۔ وارڈ کے بستروں پر ملبہ کی بوچھار ہوئی۔ ترک فوج نے مارٹر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو زخمی کرنا بھی سرحدپار سے ترکی کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ انہیں علاج کیلئے بھی ترکی روانہ کرنا چاہئے۔ ترک فوج نے جمعہ کے دن وائی پی جی مقام چوٹی کانفرنس ’’آفرین‘‘ پر بھی فائرنگ کی تھی جو سرحدی صوبہ ہاتے میں جاری ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارہ انادولو کے بموجب ترکی جاریہ ہفتہ بار بار کہہ چکا ہیکہ آفرین سے وائی پی جی کو خارج کردینا ضروری ہے۔ اس نے سرحد پر اسلحہ اور فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔ ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرس پارٹی (پی کے کے) کی ایک شاخ سمجھتا ہے۔ پی کے کے ترکی میں ممنوعہ باغی گروپ ہے جس میں جنوب مشرقی ترکی میں 1984ء سے مہلک شورش جاری رکھی ہے۔ وائی پی جی سرحدی علاقہ کے مشرق بعید میں وسیع علاقہ پر اپنا قبضہ رکھتا ہے اور اس نے عہد کیا ہیکہ چوٹی کانفرنس کا دفاع کرے گا۔ روس کے 300 فوجی مبصرین آفرین کی نگرانی کیلئے جمعرات کے دن تعینات کئے گئے تھے۔ ترکی کی فوج اور محکمہ سراغ رسانی کے سربراہ نے ماسکو میں بات چیت کی تھی اور سمجھا جاتا ہیکہ یہ ترکی کی شام میں دراندازی کی پیش بندی ہے۔

TOPPOPULARRECENT