Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / شاہین نگر کی ’اسنیک گینگ‘ کے آٹھ ارکان جرم کے مرتکب

شاہین نگر کی ’اسنیک گینگ‘ کے آٹھ ارکان جرم کے مرتکب

بدنام زمانہ ٹولی کے سرغنہ اور دیگر مجرمین کی سزاؤں کا آج اعلان، ایک ملزم بری
حیدرآباد 10 مئی (پی ٹی آئی) شہر کی ایک عدالت نے بدنام زمانہ ٹولی ’اسنیک گینگ‘ کے آٹھ ارکان کو جولائی 2014 ء میں ایک نوجوان لڑکی کا لباس اُتارتے ہوئے برہنہ کرنے اور بشمول ڈکیتی دیگر کئی فوجداری جرائم کے ارتکاب پر مجرم قرار دی ہے۔ کلیدی مجرم اور ٹولی کا سرغنہ فیصل دیانی اپنی ٹولی کے دیگر چھ ارکان کے ساتھ لوگوں کو سانپوں سے ڈرایا دھمکایا کرتا تھا۔ اُن تمام کو ہندوستانی تعزیری ضابطہ کی دفعہ 452 (کسی کے گھر غیر مجاز داخلہ) ، 395 (ڈکیتی) ، 506 (ڈرانے دھمکانے کی مجرمانہ کوشش) اور 354 ۔ ب (کسی خاتون کو برہنہ کرنے کے ارادہ سے طاقت کا مجرمانہ استعمال اور حملہ) کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ آٹھویں ملزم کو ہندوستانی تعزیری دفعہ 411 (بد دیانتی کے ساتھ مسروقہ مال کی وصولی) کا مجرم قرار دیا گیا۔ نویں ملزم کے خلاف بھی اسی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن ثبوت کی عدم دستیابی کے سبب منسوبہ الزام سے بری کردیا گیا۔ عوامی استغاثہ دیوا راجو گوڑ نے کہاکہ رنگاریڈی کی ضلعی عدالت کل ان مجرمین کی سزاؤں کا اعلان کرے گی۔ گوڑ نے مزید کہاکہ سات مجرمین جن کے خلاف اجتماعی عصمت ریزی کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، اس الزام سے بری کردیا گیا۔ واضح رہے کہ اگسٹ 2014 ء میں پہاڑی شریف پولیس نے بدنام زمانہ ’اسنیک گینگ‘ کے ارکان کو گرفتار کیا تھا جن میں اس کا سرغنہ فیصل دیانی بھی شامل تھا۔ جن کے خلاف ایک 18 سالہ لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ اُنھوں نے 31 جولائی 2014 ء کو شاہین نگر کے ایک فارم ہاؤز میں اس پر مبینہ جنسی حملہ کیا تھا۔ پولیس نے قبل ازیں کہا تھا کہ اس ٹولی کے ارکان ڈکیتی کے لئے اس فارم ہاؤز میں داخل ہوئے تھے جہاں موجود لڑکی پر سانپ چھوڑ کر اُس کو ڈراتے ہوئے کپڑے اُتارنے پر مجبور کیا تھا اور بعدازاں اس (لڑکی) کے منگیتر کی موجودگی میں مبینہ طور پر عصمت ریزی کی تھی۔ تاہم ملزمین کے خلاف عائد اجتماعی عصمت ریزی کا الزام ثابت نہیں ہوسکا کیوں کہ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں اس الزام کا تذکرہ نہیں کیا۔ دیوا راجو گوڑ نے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہاکہ ’’جن دفعات کے تحت ملزمین کو مجرم قرار دیا گیا ہے، ان کے مطابق 10 سال کی قید یا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہوسکتی ہے۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی درخواست کی ہے‘‘۔ ’اسنیک گینگ‘ کے ارکان مبینہ طور پر خواتین کو جنسی حملوں کا نشانہ بنانے کے لئے اپنے پاس موجود سانپوں سے ڈرایا دھمکایا کرتے تھے۔ (سلسلہ صفحہ 7 پر)

TOPPOPULARRECENT