Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شاہ رخ خان کو پاکستانی ایجنٹ قرار دینے کی مذمت

شاہ رخ خان کو پاکستانی ایجنٹ قرار دینے کی مذمت

بی جے پی لیڈر سادھوی پراچی کے ریمارک پر مسٹر فاروق حسین کا احتجاج
حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے بی جے پی کی قائد سادھوی پراچی کی جانب سے فلم اسٹار شاہ رخ خان کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ملک میں عدم روا داری کے لیے بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں 18 ماہ میں5  پدمابھوشن 2 پدما شری 12 نیشنل ایوارڈس اور 40 ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس ملے ہیں ملک میں عدم روا داری کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ایوارڈس واپس کرنے والے ادیبوں ، شاعروں اور اداکاروں کے جذبے کو وہ سلام کرتے ہیں اور فخر سے یہ بات کہتے ہیں کہ جب تک ملک میں سیکولر ذہنیت رکھنے والی شخصیتیں موجود ہیں تب تک فرقہ پرست طاقتیں اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ہندوتوا طاقتیں ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سازش کے تحت عدم روا داری کو ہوا دے رہی ہیں ۔ مگر کانگریس پارٹی انہیں ان کے مقصد میں کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی نے آج کانگریس کے سینئیر قائدین کے ساتھ عدم روا داری کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ سے راشٹر پتی بھون تک مارچ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو جہاں انتباہ دیا ہے وہیں عدم روا داری کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے ساتھ ہونے کا پیغام دیا ہے ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ ہندوستان میں اظہار خیال کی تمام شہریوں کو مکمل آزادی ہے ۔ فلم اسٹار شاہ رخ خان نے ملک کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ جس پر سادھوی پراچی نے انہیں پاکستان کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کی بوکھلاہٹ کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ بہار کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے بی جے پی کی شکست پر پاکستان میں آتش بازی ہونے کا ریمارک کیا ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کانگریس اور بائیں بازو کے دانشور نظریاتی عدم تحمل پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایوارڈس واپس کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی توہین کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو 1984 کے سکھ فسادات کو یاد کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے کیوں کہ جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے 2002 میں منظم سازش کے تحت 2000 سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ 1984 سکھ فسادات کی کانگریس نے تحقیقات کرائیں اور اس پر سکھوں سے معذرت خواہی بھی کی ہے جب کہ گجرات فسادات کی کوئی تحقیقات نہیں کی گئی اور نہ ہی مسلمانوں سے معذرت خواہی کی گئیں بلکہ خاطیوں کا مکمل تحفظ کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT