Wednesday , January 17 2018
Home / Top Stories / شاہ عبداللہ کا انتقال ، سلمان بن عبدالعزیز نئے حکمرانِ سعودی عرب

شاہ عبداللہ کا انتقال ، سلمان بن عبدالعزیز نئے حکمرانِ سعودی عرب

ریاض ، 23 جنوری(مبشرالدین خرم کی رپورٹ) سعودی عرب کے ضعیف العمر شاہ عبداللہ بن عبد العزیز کا آج انتقال ہوگیا اور اُن کے جانشین کے طور پر اُن کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا کے اس بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور روحانی مرکز ِ اسلام کے قادر مطلق حکمران کی ذمے داری سنبھال لی ہے۔ عالمی قائدین نے مرحوم شاہ کو خراج عقیدت پیش کیا، جو م

ریاض ، 23 جنوری(مبشرالدین خرم کی رپورٹ) سعودی عرب کے ضعیف العمر شاہ عبداللہ بن عبد العزیز کا آج انتقال ہوگیا اور اُن کے جانشین کے طور پر اُن کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا کے اس بڑے تیل برآمد کنندہ ملک اور روحانی مرکز ِ اسلام کے قادر مطلق حکمران کی ذمے داری سنبھال لی ہے۔ عالمی قائدین نے مرحوم شاہ کو خراج عقیدت پیش کیا، جو محتاط مصلح رہے جنھوں نے اپنی سلطنت کی اپنے خطہ کے ایسے پُرآشوب دور میں ایک دہے تک قیادت کی، جہاں بہارِ عرب کی بغاوتوں اور کٹر اسلام پسندی سے اتھل پتھل ہے۔ شاہی عدالت نے ایک بیان میں کہا کہ شاہ عبداللہ جو بتایا جاتا ہے لگ بھگ 90 برس کے تھے، مقامی وقت رات دیر گئے 1:00 بجے انتقال کرگئے، جس پر اپنے ’’شدید دکھ اور سوگ‘‘ کا اظہار کیا گیا۔ مرحوم حکمران کے سوتیلے بھائیوں میں سے ایک اور مقرین بن عبدالعزیز کو نئے ولیعہد نامزد کردیا گیا ہے۔

دربار شاہی سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا انتقال ایک بجے شب ہوا، تاہم بیان میں انتقال کی وجہ پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی۔ شاہی خاندان نے اقتدار کی بلارکاوٹ منتقلی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے۔ 79 سالہ ولیعہد شہزادہ سلمان نے ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زمام اقتدار سنبھال لی ہے۔ انھوں نے فوری اپنے بھتیجہ وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف کو نائب ولیعہد شہزادہ نامزد کیا ہے، اس طرح وہ ان کے سوتیلے بھائی 69 سالہ مقرن کے بعد جو نئے ولیعہد شہزادہ ہیں، تاج و تخت کے دوسرے حقدار ہوں گے۔ شاہ عبد اللہ کی تدفین سادگی سے ہوئی، ان کی میت کو شاہی ارکان خاندان نے روایتی سرخ و سفید ’’شیماغ‘‘ سرپوش سے ڈھانک رکھا تھا۔ نماز جمعہ کے بعد عالمی قائدین بشمول صدر ترکی رجب طیب اردغان اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی موجودگی میں ان کی تدفین انجام پائی۔ نماز جنازہ ترکی بن عبد اللہ مسجد کے امام نے پڑھائی۔ شاہ عبد اللہ اگست 2005ء میں برسر اقتدار آئے تھے۔ وہ 1996ء سے امور سلطنت انجام دے رہے تھے،

جب کہ ان کے سوتیلے بھائی شاہ فہد کے قلب پر حملہ ہوا تھا۔ نئے حکمراں سلمان نے عہد کیا ہے کہ وہ مملکت کے مستقل راستے پر گامزن رہیں گے اور اپنے پیش رووں کی پالیسیوں کو برقرار رکھیں گے۔ عظیم تر مشرق وسطی کی موجودہ صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں دولت اسلامیہ کے انتہا پسند گروپ کے اثر و رسوخ میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، انھوں نے کہا کہ عالم اسلام کو یکجہتی اور اتحاد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اس کو فروغ دیتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان شاء اللہ! ہم راہ راست پر گامزن رہیں گے، جس پر اپنے قیام کے وقت سے مملکت عمل پیرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی نصرت سے ہم اس عظیم ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ شاہ سلمان 2012ء سے ولیعہد شہزادہ تھے اور 2011ء وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالے ہوئے تھے۔ قبل ازیں وہ گورنر صوبہ ریاض 50 سال سے برقرار تھے۔ اقوام متحدہ کے معتمد عمومی بان کی مون، صدر امریکہ بارک اوباما، وزیر اعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون، صدر فرانس فرینکوئی اولاند اور صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے ان کے انتقال پر پیامات تعزیت روانہ کئے۔

صدر امریکہ بارک اوباما ان کی علالت کے دوران ان کی عیادت کرچکے تھے۔ بان کی مون نے کہا کہ انھوں نے مشرق وسطی میں امن کا راستہ دکھایا ہے۔ مکہ مکرمہ سے سیاست نیوز کے بموجب خادم حرمین شریفین ملک عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود کی نماز جنازہ غائبانہ طورپر مسجد حرام میں ادا کی گئی۔ الشیخ عبد الرحمن السدیس نگران امور حرمین شریفین و امام کعبہ نے بعد نماز مغرب شاہ عبد اللہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔ قبل ازیں انھوں نے اپنے مختصر خطاب کے دوران ملک عبد اللہ کے کارہائے نمایاں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مطاف کی توسیع اور مکہ مکرمہ میں حجاج کرام و معتمرین کی خدمت ان کا نمایاں کارنامہ ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں نومنتخبہ ملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود کے حق میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی ان سے ملک عبد اللہ کی طرح خدمات لے۔ الشیخ عبد الرحمن السدیس نے اس خطاب کے دوران سابق ملک عبد اللہ بن عبد العزیز کی عالم اسلام کے اتحاد اور اتحاد بین المذاہب کی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا۔ نماز جنازہ غائبانہ میں مسجد حرام کے اندرونی و بیرونی حصوں میں توحید کے علمبرداروں کا کثیر اجتماع تھا۔ سعودی عرب روزانہ 95 لاکھ ڈالر کا خام تیل پیدا کرتا ہے، جس میں سے 70 لاکھ بیرل برآمد کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر کی خام تیل کی سربراہی کا دسواں حصہ اور بین الاقوامی سطح پر فروخت ہونے والے خام تیل کی مقدار کا پانچواں حصہ ہے۔ ملک عبد اللہ کے انتقال کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں عالمگیر سطح پر کئی دن کے انحطاط کے بعد دوبارہ اضافہ ہو گیا۔ ملک عبد اللہ نے خام تیل کی قیمتوں میں انحطاط کا ذمہ دار غیر اوپیک ممالک کو قرار دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT